|
ادھر ایرانی
وزارت خارجہ ميں مغربي يورپ كے ڈائريكٹر رحيم پور نے کہا ہے كہ ہم پوپ
بينڈيكٹ سولہ سے ايك مذہبي رہنما كے عنوان سےجارج بش جيسے بيان سننے كي
توقع نہيں ركھتے ہيں
وزارت خارجہ کا
کہنا ہے کہ
پوپ بينڈيكٹ
سولہ كے اسلام كے خلاف جھوٹے اور گمراہ كن بيان پر ايراني وزارت خارجہ نے
ويٹيكن كے سفير كو وضاحت كے لئےطلب كيا ہے
رحيم پور
نے كہا كہ پوپ ايك طرف اديان كي باہمي گفتگو كي بات كرتے ہیں اور دوسري طرف
عملي طور پر اس كا انكار كرے ہیں
انھوں نے كہا كہ
پوپ كي رفتار اور گفتار ميں واضح تضاد پايا جاتا ہے
رحیم پور کے
مطابق
پوپ نے مسلمانوں
كي دل آزاري كي ہے جس پر انہیں اپني غلطي كو قبول كركے اس پر معافي مانگني
چاہيے
|