|
ممالک میں ہونے والے یورپ کیخلاف
مظاہروں میں روز بروز شدت آرہی ہے
افغانستان میں علما، نے مساجد کے لاؤڈ
اسپیکروں پر غیر ملکیوں کیخلاف کارروائی کرنے کے اعلانات کیئے ہیں جس کے بعد
افغانستان کے دارالخلافہ کابل سمیت ملک کے کئی صوبوں اور درجنوں شہروں میں
مظاہرے ایک بار پھر شروع ہوگئے ہیں
مذہبی علما، کی طرف سے غیر ملکیوں
کیخلاف کارروائی کے اعلانات کے بعد افغانستان میں مقیم ہزاروں یورپی لوگوں نے
اپنے گھروں میں پناہ لینے کا پرگرام بنایا ہے جبکہ امدادی کارروائیوں مصروف
متعدد تنظیموں نے بھی خوف کے مارے کام بند کر دیا ہے
غیر ملکی افراد نے اپنی رہائشوں میں
کھانے پینے اور دیگر اشیا، کا ذخیرہ کر لیا ہے
افغان حکومت کا کہنا ہے کہ کارٹونوں کی
اشاعت کیخلاف مظاہروں اور غیر ملکیوں کیخلاف کارروائی کے پیچھے طالبان اور
القائدہ تنظیم کا ہاتھ ہے جبکہ کارٹونوں کی اشاعت کیخلاف مطاہروں میں سب سے
ہلاکتیں افغانستان میں ہوئیں تھیں جن کی تعداد بڑھ کر دس ہو گئی ہے
افغانستان میں کئی یورپی ممالک کیخلاف
مظاہروں کے بعد وہاں موجود جرمن، فرانسیسی ، نارویجن ، ڈینش ، اور دیگر کئی
ممالک کے لیئے خطرات بڑھ گئے ہیں جب کہ اس سے پہلے ناروے کے فوجیوں پر حملے
بھی ہو چکے ہیں جس پر ناروے کے فوجیوں کی مبینہ فائرنگ سے چار مظاہرین ہلاک
بھی ہوچکے ہیں
افغانستان میں اس سے پہلے اسامہ بن لادن
اور ملا عمر شہریوں سے بارہا غیر ملکیوں کیخلاف کارروائی کی اپہل کر چکے ہیں
تاہم اب ان لوگوں کو ایسی اپیل کی ضرورت نہیں پڑے گی جبکہ افغان شہریوں کی
طرف سے ہونے والے غیر ملکیوں پر حملوں کا فائدہ برائے راست القائدہ اور
طالبان کو پہنچے گا جس سے ان کی مزاحمتی تحریک میں پہلے سے کہیں زیادہ شدت
آئے گی اور ہزاروں افراد القائدہ اور طالبان کے ساتھ مل سکتے ہیں
تاہم اس سب کے باجود یورپی ممالک کی حکومتوں اور اخبارات کا کہنا ہے کہ یورپ
میں جمہوریت ہے اور جمہوری نظام میں پریس آزاد ہے
یورپ کی اس منطق سے دنیا بھر میں مطاہروں اور یورپ کیخلاف کارروائیوں میں
اضافہ ہو رہا ہے
|