|
حکومتوں نے اپنے سفیروں کو ڈنمارک سے واپس بلا لیا ہے۔ مسلمان ممالک میں
ڈنمارک کی اشیا، کا بائیکاٹ بھی کیا جا رہا ہے کہ جبکہ فلسطین میں یورپی
یونین کے دفتر پر مسلح افراد کے حملے کے بعد دفتر کو بند کر دیا گیا ہے۔
یورپی ممالک جن میں ڈنمارک
، کے بعد فرانس، اٹلی ، اسپین، ناروے اور جرمنی شامل ہیں کے متعدد
اخبارات کا کہنا ہے کہ کارٹون شائع کرنا ان کا جمہوری حق ہے
یورپی
یونین کے قانون کے تحت کوئی بھی اخبار خدا، اللہ اور رسولوں کے علاوہ مذہبی و
سیاسی افراد کے کارٹون بنا سکتا ہے کیونکہ یورپی ممالک میں مذہب اور سیاست دو
علیحدہ چیزیں سمجھی جاتی ہیں
تاہم سیاسی ماہرین اور
تجزیہ نگار اسلامی دنیاکے مظاہروں کو ایک اور نظر سے بھی دیکھتے ہیں
ان
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں کارٹون گذشتہ برس ستمبر میں
شائع ہوئے تو ڈنمارک اور بعد ازاں ناروے میں مقامی مسلمانوں نے اس پر احتجاج
کیا تھا
لیکن اب کیا وجہ ہے کہ چار ماہ بعد
عرب دنیا میں احتجاج شروع ہوا ہے
تاہم ڈنمارک میں کارٹونوں کی اشاعت کے بیس دن بعد چند
مسلم ممالک کے سفیروں نے ڈنمارک کے وزیر اعظم کو اس سے آگاہ کیا اور مسلمانوں کی دل
آزاری سے مطلع کیا تھا ، لیکن ڈنمارک کے وزیر اعظم نے ان سفیروں
سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا تھا
اس کے بعد خود مسلم ممالک کی حکومتوں نے اس
مسئلے کو نہیں اٹھایا
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن مسلم ممالک نے بعد ازاں اپنے
سفیروں کو واپس بلایا ہے یا اب احتجاج کر رہے ہیں انہوں نے کارٹونوں کی اشاعت
کے فوری بعد ایسا شدید احتجاج کیوں نہیں کیا اور اپنے سیفروں کو واپس کیوں
نہیں بلایا ؟
خیال کیا جا رہا ہے کہ مشرق وسطی میں شدید مظاہروں سےعرب ممالک
خصوصاَ حماس پر سے یورپی یونین اور امریکی دباؤ کو ختم کرنا مطلوب ہے اور
حماس اسلامی دنیا کی حمایت چاہتی ہے تاکہ اس پر اسرائیل کو تسلیم کرنے اور
غیر مسلح ہونے والی شرائط کا دباؤ کم کیا جا سکے
ادھر مصر کے صدر حسنی مبارک کا کہنا ہے
کہ اس سے انتہا پسند فائدہ اٹھائینگے جبکہ صدر مشرف کا کہنا ہے کہ ایسے
واقع سے تہذیبوں میں تصادم کا خطرہ بڑھے گا
صدر مشرف ، حسنی مبارک ، معمر قذافی ، قطر اور عرب ممالک سمیت تمام
اسلامی دنیا نے چار ماہ خاموشی اختیار کیئے رکھی جبکہ اسلامی دنیا کی تمام
مسلم تنظیموں نے بھی اس پر اپنے خاص رد عمل کا اظہار نہیں کیا تھا
شائد یہی وجہ تھی کہ یورپ کے دیگر ممالک کے خبارات نے بھی پیغمبر اسلام کے
کارٹونوں کو شائع کیا تاہم سوال اٹھتا
ہے کہ اسلامی دنیا۔ عرب لیگ اور او آئی سی کارٹونوں کی اشاعت کے چار ماہ تک
خاموش کیوں رہے ؟ جبکہ اس سے پہلے صدر مشرف اور حسنی مبارک جیسے صدور نے بھی
کارٹونوں کی مذمت نہیں کی تھی؟
|