|
تین سال کا عرصہ لگے گا
ادھر وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ زلزلہ کے نوے فیصد متاثرین کو
عارضی رہائشی گھر دیئے جا چکے ہیں ادھر متحدہ
مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ
غیر ملکی مالی اماد جو زلزلہ متاثرین کےلیئے میں بدعنوانی ہوئی ہے
انہوں نے کہا کہ حکومت جواب دے کہ زلزلہ متاثرین کےلیئے ملنے والی رقوم
کہاں کہاں خرچ کی گئی انہوں نے کہا کہ ایک سال گزرنے
کے باوجود زلزلہ متاثرین کی مشکلات میں کوئی خاطر خواہ افاقہ نہیں ہوا
ادھر وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے زلزلہ
متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہ وہ معذرت چاہتے ہیں کہ ایک سال گزرنے
کے باوجود ابھی تک متاثرین کو سہولتیں دیئے جانے کا کام مکمل نہیں
ہوسکا تاہم انہوں نے زلزلہ آئے ہوئے کو ایک سال
مکمل ہونے پر ایک بار پھر حکومت کی طرف سے دوی کیا کہ وہ اس وقت تک چین سے
نہیں بیٹھیں گے جب تک سارا کام مکمل نہیں ہوجاتا
بالاکوٹ میں زلزلہ متاثرین سے خطاب کرتے
ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مالی امداد میں بے قائدگیوں کو برداشت
نہیں کریگی جبکہ زلزلہ کے دوسرے دن سے آج تک مسلسل مالی اور اشیائے
خوردونوش کی بد عنوانی ہو رہی ہے
گذشتہ برس زلزلے کے دوسرے دن سے علاقے کے
سیاستدانوں سمیت فوج پر بھی الزامات عائد کیئے گئے تھے کہ انہوں نے مالی
بدعنوانی کے ارتکاب کیئے ہیں تاہم ابھی تک اس معاملے میں کسی کے گرفتار
ہونے یا سزا ملنے کی اطلاعات نہیں آئیں
زلزلے میں کئی لاکھ افراد زخمی بھی ہوئے
تھے تیس ہزار کے قریب افراد معذور ہوئے ہیں
صدر مشرف نے ڈونر کانفرنس منعقد کی تھی جس
میں درجنوں ممالک نے مل ملا کر چھ ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا تاہم اس
ڈونر کانفرنس کے بعد کسی طرف سے عملی مدد کا کوئی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں
آیا
ایک سال قبل آنے والے زلزلے میں کم و وبیش
ایک لاکھ افراد ہلاک ہوگئے تھے تاہم ایک بعد بھی کئی لاکھ افراد بغیر چھت
کے پڑے ہیں جبکہ سردی کے موسم کا ایک بار پھر آغاز ہونے والا ہے
صدر مشرف نے زلزلے کے کئی ماہ بعد
نوجوانوں کی ایک تنظیم کی بنیاد رکھی تھی جن کا کام زلزلہ زدگان کی مددکرنا
اور اس سلسلے میں فوجیوں کا ہاتھ بٹانا تھا لیکن اس مذکورہ تنظیم کے بارے
میں بھی بعد ازاں کو کوئی اطلاعات نہیں ملیں کہ وہ متاثرہ علاقے میں کام کر
رہی ہے یا نہیں
|