Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 02 October 2006 15:31 (PST)اشاعت

’ممکن ہے سابق افسران طالبان کی مدد کررہے ہوں‘مشرف

عنایت اللہ خان

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

صدر مشرف کی کتاب سامنے آنے پر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

صدر جنرل پرویز مشرف نے خیال  ظاہر کیا ہے کہ طالبان کی مدد سابق انٹیلی جنس افسران کررہے ہیں تاہم اس سلسلے میں تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں صدر مشرف نےواضح طور پر کہا ہے کہ آئی ایس آئی طالبان کی معاونت

میں ملوث نہیں ہے

تاہم ہوسکتا ہے کہ سابق انٹیلی جنس افسران طالبان کی مدد کررہے ہوں اس سلسلے میں تحقیقات کی جارہی ہیں

صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں بعض سابق انٹیلی جنس افسران جو اناسی اور نواسی کے دوران ایجنسی سے وابستہ رہے ہیں اپنے ذرائع سے طالبان کی مدد کررہے ہیں صدر نے کہا کہ اس بارے میں کڑی نگرانی کی جارہی

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئی ایس آئی اور پاکستان کی کامیابیوں کا ذکر کیا جن میں القاعدہ کے سینکڑہوں ارکان کی گرفتاریان بھی شامل ہیں سرد جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان نے انیس سو اناسی سے انیس سو نواسی تک مغرب کے لئے سوویت یونین سے جنگ لڑی اور جیتی پاک فوج اور آئی ایس آئی نے سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کےلئے ہزاروں مجاہدین کو تربیت دی

تاہم  سوویت یونین کی واپسی کے بعد مغربی دنیا نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیاجس کے نتیجے میں ان مجاہدین کی باقیات میں سے القاعدہ اور انتہاپسند طالبان وجود میں آئے

انہوں نے کہا کہ پاکستا ن نے سب کچھ دنیا کےلئے کیا تھا اور پاکستان کو ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے صدر نے زور دیا کہ دنیا کو پاکستان کو مسئلہ سمجھنا اور اس کی مددکرنے چاہئے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات