|
لی گئی رقم کا ذکر ختم کردیا گیا ہے
امریکہ کو دیئے جانے والے قیدیوں کے اعدادو شمار بھی اس کتاب سے ختم کر
دیئے گئے ہیں
صدر مشرف نے پرسوں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا
تھا کہ قیدیوں کی گرفتاری پر انعام کی رقم قومی خزانے میں نہیں آئی
انہوں نے کہا کہ یہ رقم اداروں کو دی گئی ہے
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا غلطی تھی، جبکہ اپوزیشن اور دیگر ماہرین
سیاستدان یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ وہ کروڑوں ڈالر رقم کہاں گئی اور کن
اداروں اور کن افراد نے لی ہے
تاہم صدر مشرف اور ان کی انتظامیہ ایسے کسی سوال کا جواب نہیں دے رہے ہیں
صدر مشرف کی کتاب کے اردو ترجمے میں ایسے ہی کئی اعترافات کو ہدف کردیا گیا
ہے
تاہم کتاب میں ردوطدل کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا امکانی عوامی دباؤ کی
وجہ سے کیا گیا ہے |