|
سے متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں پاکستان کے شہروں کراچی، راولپنڈی
اور خوشاب میں ڈینگی وائرس سے اب تک پندرہ سو افراد کو چیک کیا جا
چکا ہے جبکہ اب تک کم از کم پچیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات
ہیں، ڈینگی وائرس گرمیوں میں پیدا ہونے والے مچھر کے کاٹنے کی وجہ
سے
جسم
میں داخل ہوتا ہے
ڈینگی وائر تاہم ایک انسان سے دوسرے انسان کو (چھوت کی بیماری کی طرح )
نہیں لگتا
پاکستان میں اس مرض سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر کراچی ہے جہاں
سینکڑوں مریضوں کو ہسپتال لایا گیا اور کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس مرض سے بچنے کےلیئے اضتیاط کی ضرورت ہے
متعدد ماہرین اس بارے میں بتاتے ہیں کہ شہریوں کو صاف پانی پینا اور
استعمال کرنا چاہیئے
ان ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر میں موجود پانی جو عام برتنوں میں ہو اسے بھی
صاف جگہوں پر رکھنا اور ڈھک کر رکھنا چاہیئے
ڈینگی وائرس کم وبیش ملیریا کی ہی ایک قسم ہے جو مچھر کے کاٹنے سے پیدا
ہوتا ہے
اس مرض میں مریض کو بخار ، کمزوری اور متلی ہوتی ہے یا محسوس ہوتی ہے
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈینگی وائر کا ابھی خصوصی کوئی توڑ یعنی کوئی دوائی
نہیں ہے اور اس کا علاج عام لیکن مختلف دوائیوں سے ہی کیا جارہا ہے
اپوزیشن سمیت عوام نے سندھ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے سینکڑوں
مریضوں کے لیئے کچھ نہیں کیا جبکہ ڈینگی وائر کے بچاؤ کےلیئے شہر میں جو
دوائی کا چھڑکاؤ شروع کیا تھا وہ بھی چند ایک مقامات پر کیا گیا ہے |