|
جرمانہ بھی ہوگا
پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے ایک
چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حددود آرڈیننس کا بل منظور ہوتا ہے
تو میڈیا کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ زنا بالجبر کی خبر کو شائع کر
سکیں
انہوں نے کہا کہ عورتوں کے حقوق کے تمام
قوانین عین اسلامی بنائینگے
ڈاکٹر شیر افگن کا کہنا تھا کہ صدر مشرف
نے ہدایت کی ہے کہ اسلام کے منافی کوئی قانون نہ بنایا جائے
شیر افگن کا کہنا تھا کہ ضیا، الحق نے دو
قوانین کو ایک ہی میں شامل کردیا تھا تاہم ہم انہیں علیحدہ علیحدہ
بنا رہے ہیں
اس بارے میں انہوں نے کہا کہ چار گواہوں کا
قانون موجود رہے گا لیکن گواہوں کو گواہی دینے سے قبل حلف اٹھانا
پڑیگا
ڈاکٹر شیر افگن کے مطابق بل کی منظورے کے بعد
زنا بالجبر کی سزا موت یا عمر قید ہو گی تاہم ایف آئی آر درج کئے
جانے بارے میں
اگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ جھوٹی ہے تو ایف آئی آر درج کروانے والے کو قذف
کی سزا دی جائیگی
انہوں نے اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’
اسلام میں یہ قانون ہے کہ زنا بالجبر اور زنا کے کسی کیس کو ذرائع
ابلاغ میں نہیں لایا جاتا اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے سزا دی
جاتی ہے
حدود آرڈیننس کے تحت الیکٹرک میڈیا پر بھی
سختی کی جائے گی کہ وہ زنا یا زنا بالجبر کی خبر شائع نہ کرے |