|
کا کہنا تھا کہ اگر ایران
پاکستان کو ایٹمی مسئلے پر ثالثی کا کہتا ہے تو پاکستان اس کےلیئے
تیار ہے
پاکستانی وزیر خارجہ نے
ایران کے بارے میں کہا ہے پاکستان ایران کو افغانستان بنتا ہوا
نہیں دکھنا چاہتا
پاکستانی وزیر خارجہ نے اس
کی وضاحت نہیں کہ آیا ان کا مطلب ایران پر ایسے حملے سے ہے
جیسا افغانستان پر کیا گیا تھا۔ یا وہ سمجھتے ہیں کہ ایران پر حملہ
کیا جا سکتا ہے
وزیر خارجہ محمود قصوری نے
کہا کہ ایران عالمی برادی کے جذبات کا بھی خیال رکھے ان کا کہنا
تھا کہ ایران کے ایٹمی مسئلہ پر ایران کو شکار نہ کیا جائے
اسرائیل کے ساتھ سفارتی
روابط کے بارے میں پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس رابطے
سے مسئلہ فلسطین حل کرنے میں مدد ملے گی
پاکستان کے وزیر خارجہ کے
بیان سے لگتا ہے کہ پاکستان عالمی سیاست میں کئی ممالک کے مسائل
میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہشمند ہے جس کا مقصد پاکستان کو
ایک نئے چہرے کے ساتھ دنیا کے سامنے متعارف کروانا ہے
اس وقت پاکستان مسئلہ کشمیر
کے حل کے لیئے اس قدر لچک کا مظاہرہ کرچکا ہے جس کی ماضی میں مثال
نہیں ملتی لیکن پاکستان کو اس لچک سے کوئی ایسا فائدہ نہیں ہوا جس
کا ثمر خود پاکستان یا کشمیریوں کو ہوا نظر آتا ہو
پاکستان اسرائیل اور فلسطین
مسئلے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان کو یک تو
اس کا سِرا نہیں مل رہا کہ وہ اپنی ثالثی کے کردار کا آغاز کہاں سے
کرے دوسرا یہ پاکستان کی اپنی خواہش یا پالیسی نظر نہیں آتی بلکہ
صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ امریکہ کی خواہش ہے جس کی پاکستاب صرف
تعمیل کر رہا ہے
پاکستان عالمی مسائل میں
ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے یا نہیں ۔ اس بارے میں سیاسی ماہرین
کا کہنا ہے پاکستان کو اسیسے کسی بھی کردار کےلیئے سب سے پہلے
مسئلہ کشمیر کا جلد اور ایسا حل تلاش کرنا ہوگا جو خود کشمیریوں کے
علاوہ پاکستانیوں کو بھی قبول ہو
اس کے علاوہ پاکستان کو
اپنی اندرونی اور بیرون ممالک اپنی پالیسیاں خود ترتیب دینا ہونگی |