|
نشانہ بننے والے صحافیوں کے
بارے میں کئی رپورٹیں بھی شائع کی گئی جبکہ گذشتہ روز لاہور میں ایک
ڈی ایس پی کے کہنے پر اے آر وائی کے صحافیوں پر پولیس تشدت کے تین روز قبل
ڈیرہ اسماعیل خان میں آن لائن کے ایک سینئر صحافی کو قتل کیا گیا تھا
اس واقع سے ایک ہی رات قبل
ایک سینئر صحافی کو ایک وزیر کے محافظوں نے تشدت کا نشانہ بنایا تھا جس سے
ان کے کان کا پردہ پھٹ گیا
لاہور میں صحافیوں کو تشدت
کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر ازخود نجی ٹی وی چینل اے آر
وائی کی نشریات بند کرنے کا حکم دیا جبکہ محمکہ اطلاعات و نشریات کا کہنا
ہے کہ انہوں نے چینل بند کرنے کے کوئی احکامات جاری نہیں کیئے
ادھر صحافیوں کی تنظیموں نے
اعلان کیا ہے کہ اگر صحافیوں پر تشدت کرنے والے پولیس والوں گرفتار نہ کیا
گیا تو وہ نہ صرف لاہور اسمبلی کے تمام اجلاسوں کا بائیکاٹ کرینگے بلکہ ملک
گیر مظاہرے بھی کرینگے
متحدہ مجلس عمل کے رہنما
قاضی حسین احمد نے اپنی بیان میں صحافیوں پر تشدت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے
کہ حکومت آزاد صحافت کو اپنے لیئے زہر قاتل سمجھتی ہے
قاضی حسین احمد کا کہنا تھا
کہ حکومت فوری طور پر تشدت کا نشانہ بننے والے صحافیوں کو مفت علاج کروائے
اور ملزمان کو فوری پر گرفتار کرے
پاکستان میں صدر مشرف کی
حکومت میں بظاہر صحافت پہلے سے آزاد ہے لیکن ایسے متعدد واقعات بھی سامنے
آئے ہیں کہ کئی صحافیوں کو بلا کسی کیس کے گرفتار کیا گیا
|