Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 19 September 2006 14:07 (PST)اشاعت

پولیس تشدت سے تین روز قبل ہی ایک صحافی قتل ہوا

ابوسفیان

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، اسلام آباد

صحافیوں کو مبینہ طور پر ایک پولیس افسر کے کہنے پر تشدت کا نشانہ بنایا گیا

پاکستان میں صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات ، پاکستان دنیا میں صحافت کےلیئے خطرناک ملک جیسے آرٹیکل ، خبریں اور تجزیئے دنیا کے کئی ممالک بالخصوص امریکہ میں حال ہی میں شائع ہوئے جبکہ پاکستان میں کچھ عرصہ قبل قتل ہونے والے اور تشدت کا

نشانہ بننے والے صحافیوں کے بارے میں کئی رپورٹیں بھی شائع کی گئی  جبکہ گذشتہ روز لاہور میں ایک ڈی ایس پی کے کہنے پر اے آر وائی کے صحافیوں پر پولیس تشدت کے تین روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں آن لائن کے ایک سینئر صحافی کو قتل کیا گیا تھا

اس واقع سے ایک ہی رات قبل ایک سینئر صحافی کو ایک وزیر کے محافظوں نے تشدت کا نشانہ بنایا تھا جس سے ان کے کان کا پردہ پھٹ گیا

لاہور میں صحافیوں کو تشدت کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر ازخود نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کی نشریات بند کرنے کا حکم دیا جبکہ محمکہ اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ انہوں نے چینل بند کرنے کے کوئی احکامات جاری نہیں کیئے

ادھر صحافیوں کی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ اگر صحافیوں پر تشدت کرنے والے پولیس والوں گرفتار نہ کیا گیا تو وہ نہ صرف لاہور اسمبلی کے تمام اجلاسوں کا بائیکاٹ کرینگے بلکہ ملک گیر مظاہرے بھی کرینگے

متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد نے اپنی بیان میں صحافیوں پر تشدت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آزاد صحافت کو اپنے لیئے زہر قاتل سمجھتی ہے

قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر تشدت کا نشانہ بننے والے صحافیوں کو مفت علاج کروائے اور ملزمان کو فوری پر گرفتار کرے

پاکستان میں صدر مشرف کی حکومت میں بظاہر صحافت پہلے سے آزاد ہے لیکن ایسے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ کئی صحافیوں کو بلا کسی کیس کے گرفتار کیا گیا

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات