|
کہا ہے۔ صدر مشرف نے اپنے
خطاب میں کہا کہ ملک میں منافرت پھیلانے۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے
اور اسلحہ کی نمائش کرنے کے علاوہ ملک بھر میں ایسا مذہبی لٹریچر
تقسیم کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی جائے گی جو منافرت پھیلانے
کے سبب بنیں گے
صدر مشرف نے برطانیہ کی طرف
سے لگائے گئے اس الزام کا دفاع بھی کیا جس میں برطانیہ نے کہا ہے
کہ لندن دھماکوں کے ملزمان کا تعلق پاکستان سے ہے اور انہوں نے
پاکستان سے دہشتگردی کی تعلیم حاصل کی۔ صدر نے کہا کہ لندن بم
دھماکے کے ملزمان پاکستانی نہیں تھے وہ برطانیہ کے شہری تھے وہیں
پیدا ہوئے تھے اور واہیں انہوں نے تعلیم حاصل کی تھی
صدر نے مذہبی تنظیموں اور
ملکی میڈیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں منافرت اور
انہتا پسندی پر مبنی لٹریچر لکنھے اسے شائع کرنے۔ یا ایسا مواد جس
کا تعلق آڈیو ۔ویڈیو۔ تقریر۔کتب۔تقسمیم کرنے والوں کے خلاف بھی سخت
کارروائی کیا جائے گی
صدر مشرف نے اپنے خطاب میں
اکثر وہی باتیں کہی ہیں جو انہوں نے اکثر مواقع پر پہلے بھی کر چکے
ہیں
ادھر مذہبی جماعتوں جن میں
متحدہ مجلس شامل بھی شامل ہے نے جمعہ کے روز احتجاج کرنے کا کہا
ہے، ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف امریکہ اور برطانیہ کے ٹونی
بلیئر خوش کرنے کے لئے پاکستان میں کریک ڈاؤن کر رہے ہیں
|