|
کا سفارتی بائیکاٹ کرے
وفاقی حکومت پر تنقید بھی کی گئی کہ حکومت
نے خاکوں کیخلاف موثر احتجاج نہیں کیا
قرارداد مذمت سندھ کے وزیر اعلی اور حکومتی
ارکان نے پیش کی تھی
اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ حکومت خاکے چھاپنے
والے ممالک کا سفارتی بائیکاٹ کرے اور ان ممالک کا بھی سفارتی
بائیکاٹ کیا جائے جنہوں نے غیر مشروط معذرت کا اظہار کیا ہے
ارباب غلام رحیم نے خاکوں کی اشاعت کے بارے
میں خطاب کیا اور کہا کہ مسلمانوں کو اتحاد کی ضرورت ہے
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی تمام
سیاسی جماعتوں نے اپنے اختلافات بھول کر موثر طریقے سے اپنا احتجاج
ریکارڈ کروایا ہے
واضع رہے وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم
نے گذشتہ ہفتے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان
خاکے چھاپنے والے ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس نہیں بلائے گا
تاہم متحدہ مجلس عمل اور دیگر مذہبی جماعتوں
کا اعلان ہے کہ سفیروں کی واپسی، خاکے چھاپنے والے ممالک کی طرف سے
معافی کا اعلان اور یورپی یونین کی طرف سے مذہب کی توہین کیخلاف
سزا کے قانون بنائے جانے تک احتجاج جاری رہے گا
|