|
ادھر چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے
رہنما قاضی حسین احمد نے ایک کانفرنس میں کہا ہے کہ لاہور میں ہونے
والے ہنگامے خود حکومت نے کروائے ہیں تاکہ اس بہانے سے کارٹونوں کی
اشاعت کیخلاف احتجاج کو روکا جا سکے
منصورہ میں قاضی حسین احمد نے
کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ لاہور کے پر تشدد ہنگاموں میں
حکومت کا ہاتھ ہے اور اگر حکومت نے گولی چلانے کا سلسلہ
جاری رکھا تو ملک خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے
قاضی حسین احمد نے صدر جنرل پرویز
مشرف سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا
انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے
پابندی کے باوجود احتجاج پروگرام کے مطابق ہوگا اور اس میں
رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی
قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ
سرکاری و نجی عمارتوں اور دفاتروں پر حملوں میں خود حکومت
ملوث ہے
انہوں نے بتایا کہ جلاؤ گھراؤ کرنے
والے چند افراد تھے جن کو کسی نے نہیں روکا
قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ ہم
احتجاج کرینگے تو مظاہرین کو خود کنٹرول بھی کرینگے
متحدہ مجلس عمل کے رہنما نے صدر مشر
پر بھی تنقید کی اور کہا کہ توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت
پر حکومت خاموش ہے اور ملک میں میراتھن اور ویلنتائن ڈے
منا رہی ہے جبکہ حکومت نے کسی یورپی ملک سے درست طور پر
احتجاج نہیں کیا
اس سے پہلے متحدہ مجلس عمل امریکی
صدر جارج واکر بش کی پاکستان آمد پر احتجاج کرنے کی دھمکی
دے چکی ہے
واضع رہے منگل کو لاہور میں ہونے
والے مطاہروں میں تین افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے
تھے جبکہ بدھ کے روز پشاور میں دو افراد کے ہلاک ہونے کی
اطلاع ہے
اسلام آباد میں پولیس اور طلبا میں
جھڑپوں کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور مظاہرین پر
آنسو گیس پھینکی جس سے متعدد طلبا شدید زخمی ہوگئے جبکہ
درجنوں طلبا کو پولیس نے گرفتار کر لیا
|