Download urdu Font

 

 

 

 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 12 May 2006 20:17 (PST)اشاعت

کارٹون احتجاج مشرف ہٹاؤ تحریک بن گیا

رانا رحمان اکرم ۔ لاہور

اردو سروس ۔ نیٹ

مشرف کے جانے تک اب تحریک جاری رہے گی ، قاضی حسین احمد

پاکستان میں پیغمبر اسلام کے خاکو ں کی اشاعت کیخلاف ہونے والا احتجاج ملک گیر تحریک بن گیا ہے ، لاہور اور پشاور میں درجنوں گاڑیوں سینکڑوں موٹر سائیکلوں اور متعدد سرکاری و غیر سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کیئے جانے کے بعد پنجاب میں جلوسوں

پر پابندی عائد کر دی گئی ہے

پنجاب حکومت کی طرف سے پابندی کے باوجود جمعرات کو ملتان اور جھنگ میں ہڑتال اور احتجاج کے علاوہ لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں

ادھر متحدہ مجلس عمل سمیت  مذہبی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے انیس فروری اور تین مارچ کو اسلام آباد میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ پنجاب حکومت سمیت وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں کسی صورت جلسے جلوس اور احتجاج نہیں کرنے دیا جائے گا

قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج ضرور کیا جائے گا اور اگر حکومت نے احتجاجی جلوس روکنے کی کوشش کی تو ہنگامے حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی

پاکستان میں ہونے والے مسلسل مظاہرے ایک ملک گیر تحریک بنتے جا رہے ہیں جن میں شدت پسندی کا عنصر شامل ہوگیا ہے

لاہور اور پشاور میں احتجاجی مظاہرین میں سے کچھ افراد نے نہ صرف توڑ پھوڑ کی اور عمارتوں گاڑیوں کو نذر آتش کیا بلکہ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ کچھ افراد کے جو ہاتھ لگا وہ ساتھ لے گئے

جمعرات کو کراچی میں پچاس ہزار کے قریب افراد احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئے تھے تاہم کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا جس سے چابت ہوتا ہے کہ لاہور اور پشاور میں متحدہ مجلس عمل سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے احتجاج میں کچھ ایسے عناصر بھی شامل تھے جنہوں نے توڑ پھوڑ کی

قاضی حسین احمد اور دیگر مذہبی جماعتوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ احتجاج میں ہنگامہ آرائی کرنے والے لوگ حکومت کے بھیجے ہوئے تھے تاکہ توڑ پھوڑ کو بہانہ بنا کر احتجاجی جلوسوں پر پابندی عائد کی جا سکے

قاضی حسین احمد نے دو دن میں دوسری مرتبہ کہا ہے کہ صدر مشرف استعفی دے دیں

قاضی حسین احمد نے کارٹونوں کیخلاف احتجاجی مطاہروں کے بارے میں پہلی مرتبہ کھل کر کہا ہے کہ اب یہ تحریک چلی ہے اور یہ اس وقت ہی ختم ہو گی جب صدر مشرف عہدہ چھوڑ دینگے

قاضی حسین احمد نے اسلامی تنظیم ’ او آئی سی ‘ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ او آئی سی اور مسلم حکومتیں خاموش ہیں

انہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ اگر حکومت گولی چلانا چاہتی ہے تو مجھے قتل کر دے لیکن لوگوں پر گولیاں چلانا بند کرے‘

قاضی حسین کا کہنا تھا کہ انیس فروری اور تین مارچ کو احتجاجی جلوسوں کی قیادت میں کود کرونگا اور اگر حکومت نے اسے روکنا چاہا تھا تو حالات کی خرابی کی ذمہ دار حکومت ہوگی

ادھر پاکستان میں کارٹونوں کیخلاف ہونے والا احتجاج پاکستان کے ہر شہر میں پھیل گیا ہے جس نے ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

کالم۔تجزیئے

میڈیا فوکس