|
پاکستان سمیت دیگر کئی مسلم
ممالک میں احتجاجی مطاہرے ہوئے ہیں
ترکی کے شہر استنبول میں کئی
ہزار افراد نے مظاہرہ کیا جبکہ مظاہرین نے فرانس کے
سفارتخانے پر بھی حملہ کرنے کی کوشش تاہم پولیس نے اس
کوشش کو ناکام بنا دیا جبکہ مظاہرین نے سفارتخانے پر
انڈے اور دیگر اشیا، کو پھینکا
ادھر پاکستان میں مسلم لیگ ق کے
چوہدری شجاعت حسین اور متحدہ مجلس عمل نے پروگرام طے
کیا ہے کہ کارٹونوں کی اشاعت کیخلاف بھرپور احتجاج کیا
جائے گا تاہم حکومت کی طرف سے ایسا کوئی رد عمل سامنے
نہیں آیا
پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ
ان ممالک سے دوائیاں نہیں خریدے گے جبکہ سیاسی تجزیہ
نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت مذکورہ دوائیاں کچھ خود
تیار کرتی ہے اور دیگر دوائیاں بھارت سے منگوائی جاتی
ہیں اور یہ بائیکاٹ نہیں ہے کیونکہ حکومت دیگر تمام
کاروبار ان ممالک سے جاری رکھے ہوئے ہے
مذہبی جماعتوں کے طلبہ کے علاوہ
دیگر طلبہ چودہ فروری کو جبکہ متحدہ مجلس عمل انیس
فروری کو اور پھر چھبیس فروری اور بعد ازاں پانچ مارچ
کو ملک بھر میں احتجاجی جلسے اور جلوس نکالے گے
ادھر سعودی عرب کے امام کعبہ سے
منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے انہوں نے مغربی ممالک
کی معافی کو ناقابل قبول قرار دے دیا اور ان ممالک
کیخلاف بھرپور کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے
امام کعبہ کا کہنا ہے کہ ان
ممالک کیخلاف جن میں کارٹونوں کی اشاعت ہوئی ہے قانونی
کارروائی کی جائے اور ان پر مقدمات دائر کیئے جائیں
ایک اطلاع کے مطابق ناروے کے
حکام نے سعودی عرب سے اس سلسلے میں معذرت کی ہے
پاکستان میں آج دوکانداروں کی
تنظیمیں اپنے احتجاجی پروگرام کا اعلان کرینگی جبکہ
امکان ہے یہ تنظیمیں بائیکاٹ کرنے کا بھی کہیں گی
پاکستان میں ناروے کی ٹیلی فون
کمپنی ’ ٹیلی نار ‘ کا عوامی سطع پر بائیکاٹ کیا جا
رہا ہے
قاضی حسین احمد نے مذہبی و
سیاسی شخصیات کی مجلس مشاورت میں اعلان کیا ہے کہ
مذکورہ اخباری مدیروں کی معافی قابل قبول نہیں بلکہ
مغربی حکومتیں اس سلسلے میں معافی مانگے بسورت دیگر
احتجاج جاری رہے گا
مجلس مشاورت میں فیصلہ کیا گیا
کہ مسلمان پیغمبر اسلام کی حرمت کا دن منانے کےلیئے
ایک دن کا اعلان کریں تاکہ اس دن پیغمبر اسلام کی حرمت
کا دن منایا جا سکے
|