|
پشار میں ہڑتال ۔ مظارہ ہلاکتیں پانچ
ہوگئیں توہین رسالت کے خلاف پر تشدد مظاھروں کے
دوران پشاور شہر میں واقع غیرملکی بس
سروس’ڈائیو’ بس سٹینڈ پر دھاوا بول دیا گیا اوروھاں
موجود تمام کی تمام 16 ڈائیو بسیں اور 4
فلائینگ کوچز کو جلا دیا گیا
مزکورہ بس سٹینڈ پر پولیس فورس تعنیات ہکر
دی گئی ہے ، اندازہ ظاھر کیا جا رہا ہے کہ ڈائیو کمپنی کو
کروڑوں روپے کا نقصان پہنچاہے اس طرح پر
تشدد ھنگاموں پر قابوں پانے کے لییئ پشاور
میں فوج اور ایف سی نے کنٹرول اپنے ہاتھ
میں لے لیا ہے جبکہ حالات کو قابوں میں
رکھنے کے لئے فوجی اور نیم فوجی دستوں نے گشت شروع کر دیا ہے۔جس کے
بعد زندگی معمول پر آگئی ہےاور
گاڑیاں سڑکوں پر نکل گئی ہیں۔ منگل کو لاہور اور بدھ کو پشاور میں ہونے
والے کارٹون مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ
ہوگئی ہے اس طرح اسلامی دنیاں میں ہونے والے مظاہروں میں ہلاکتیں
بڑھ کر ستائیس ہوگئی ہیں بدھ کے روز پشاور میں ہونے مظاہروں میں کم و
بیش ایک لاکھ افراد نے شرکت کی جبکہ دو سیمنا گھر ، ایک امریکی
ریسٹورانٹ ’ کنٹکی ، فریڈ چکن ‘ درجنوں گاڑیوں اور ناروے کی موبائل
کمپنی ’ ٹیلی نار ‘ کے دفاتر کو نذر آتش کر دیا گیا
منگل کے روز لاہور میں مظاہروں کے دوران
فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ لاہور کے مظاہروں میں ایک ایک
اور ہلاکت کا بھی کہا جا رہا ہے ، پشاور میں بدھ کے روز ہونے والے
مظاہروں میں فائرنگ اور توڑ پھوڑ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے
ہیں جن میں کم عمر بچہ بھی شامل ہے پشاور کے
علاوہ ضلع اٹک میں بھی مطاہرے جاری ہیں
اٹک میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں
کی اطلاعات بھی ہیں جبکہ پشاور اور اٹک میں سو سے زائد افراد زخمی
ہوئے ہیں ادھر لاہور اور پشاور میں مطاہروں
کی وجہ سے صوبائی حکومت نے کراچی میں پولیس اور رینجر کو
الرٹ کر دیا ہے آخری اطلاعات کے
مطابق پشاور اور اٹک میں مظاہرے ہو رہے ہیں یورپی ممالک میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی
اشاعت کیخلاف منگل کے روز لاہور میں دو مظاہرین ہلاک جبکہ درجنوں
زخمی ہوگئے تھے جبکہ لاہور کے بعد بدھ کو پشاور میں مظاہرے ہورہے
ہیں جبکہ پشاور شہر اور دیگر علاقوں میں ہڑتال ہے پشاور سے آمدہ اطلاعات کے مطابق
مظاہرین نے متعدد عمارتوں پر حملے کیئے ہیں جبکہ سیمنا گھر اور ایک ریسٹورانٹ کو نذر آتش کر دیا ہے
مظاہرین مختلف علاقوں میں مظاہرے کر
رہے ہیں جو بعد ازاں ایک جمع ہونگے
پشاور کے گردنواح میں بھی ہڑتال ہے
اور احتجاجی جلوسوں میں شریک لوگ اندرون شہر جارہے ہیں
مشتعل مظاہرین کو کنٹرول کرنے
کےلیئے شہر میں ایک بڑی تعداد میں پولیس بھی الرٹ ہے تاہم
ابھی تک پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں دیکھنے میں
نہیں آئیں
منگل کے روز لاہور میں دو مظاہرین
ہلاک ہوگئے تھے
پاکستان میں پیغمبر اسلام کے
کارٹونوں کی اشاعت کے بعد فروری کے دوسرے ہفتے میں مظاہروں
میں شدت آئی ہے جبکہ ہمارے نمائندہ نگاروں کا کہنا ہے کہ
آئندہ دنوں احتجاج میں مزید شدت آئے گی
متحدہ مجلس عمل اور دیگر سیاسی و
مذہبی جماعتوں اور طلبا تنظیموں نے احتجاج میں شدت لانے
اور اس سلسلے میں ملین مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے
مذہبی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ ملک
کی سٹوڈنٹس تنطٰموں نے یورپی ممالک کی طرف سے معافی مانگے
جانے تک مظاہرے کرنے کا اعلان بھی کیا ہے
ادھر پاکستان کے علاوہ سعودی عرب
اور دیگر ممالک نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ مذاہب کی
توہین کیخلاف قانون بنائے
|