|
شائع کیئے گئے کارٹونوں کیخلاف شدید
احتجاج کیا گیا جس میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کی
اطلاع بھی ہے
منڈی بہاؤالدین میں پولیس اور
مظاہرین میں جھڑپیں جس میں پولیس نے زبردست لاٹھی چارج کیا
اور آنسو گیس کا استعمال کیا
ادھر اٹک میں بھی مظاہروں کی
اطلاعات ہیں جس میں مظاہرین نے ناروے کی ٹیلی کام کمپنی ’
ٹیلی نار ‘ کے دفتر کو نذر آتش کیا اور توڑ پھوڑ کی
پاکستان میں لوگوں نے ناروے کی ٹیلی
کام کمپنی ’ ٹیلی نار ‘ کے بائیکاٹ کا اعلان کیاہے جبکہ
عوام ردعمل کے طور پر کمپنی کیخلاف ایک دوسروں کو پیغامات
کے ذریعے ناروے کی کمپنی کے بائیکاٹ کا کہہ رہے ہیں
اس کےلیئے لوگ موبائل پر ایس ایم
ایس کا ذریعہ زیادہ استعمال کر رہے ہیں
ادھر چودہ فروری کو پاکستان میں
طلبہ کی تنظیموں نے بھی احتجاج میں شمولیت کا اعلان
کرتےہوئے سب سے پہلے امریکہ کے سفارتخانے کا گھیراؤ کرنے
کا اعلان کیا طلبہ تنظیمیں اس سلسلے میں پشاور میں
امریکی سفارتخانے کا گھیراؤ کرینگی
سرحد میں یہ خیال پایا جا رہا ہے کہ
ہنگو کے دھماکے میں امریکہ ملوث ہے اسی وجہ سے پشاور میں
امریکی سفارتخانے کے گھیراؤ کا اعلان کیا گیا ہے
پشاور ، حیدرآباد اور دیگر شہروں
میں لوگوں نے ہڑتال کی اور کاروبار بھی بند رہے جبکہ ان
علاقوں میں مطاہروں کی اطلاع بھی ہیں
متحدہ مجلس عمل نے بھی انیس فروری
سے مطاہروں کا اعلان کیا ہے جبکہ سکھر میں اتوار کے
روز احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے
متحدہ مجلس عمل اور اپوزیشن کی دیگر
سیاسی پارٹیوں کے علاوہ مذہبی جماعتوں اور مختلف تنظیموں
نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارٹونوں کی
اشاعت پر حکومت کی خاموشی مجرمانہ فعل ہے
چند روز قبل پاکستانی وکلا، کی
تنظیم بھی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کیا تھا
اس وقت اسلامی دنیا کے تمام ممالک
میں شدید مظاہرے ہورہے ہیں
|