|
پاکستان بھر میں ہونے والے پرتشدد
مظاہروں کی وجہ سے حکومت اس وقت سخت دباؤ میں ہے جبکہ
ڈنمارک سے سفیر کی واپسی حکومت پر پڑنے والے عوامی دباؤ کا
نتیجہ ہو سکتا ہے
اردو سروس جرمنی‘ کی
طرف سے ڈنمارک میں پاکستان ایمبیسی رابطہ کیا گیا تاہم
ایمبیسی میں کسی فرد سے رابطہ نہیں ہو سکا
جمعہ کے روز پاکستان کے متعدد بڑے
شہروں میں احتجاج کیا گیا ہے جبکہ لاہور میں کئی ہزار
پولیس اور رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے
پنجاب پولیس نے متعدد شہروں سے
مذہبی و سیاسی رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا ہے جس سے حالات
مزید کشیدہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے
پشاور کی مشہور اور قدیم مسجد ’
مہابت خان ‘ کے امام مسجد یوسف قریشی اور عوامی حلقوں نے
پیغمبر اسلام کے کارٹون بنانے والے شخص کے سر کی قیمت کئی
لاکھ ڈالر رکھی ہے
نماز جمعہ کے بعد پشاور سمیت
پاکستان کے متعدد شہروں میں احتجاج کیا گیا ہے جبکہ مذہبی
جماعت ’ جماعت الدعوۃ ‘ کے رہنما مولانا حافظ سعید کو نظر
بند کر دیا ہے
پنجاب حکومت نے صوبے میں جلسے
جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ کئی شہروں میں دفعہ
ایک سو چوالیس کی خلاف وزری کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا
قاضی حسین احمد نے حکومت سے کہا ہے
کہ وہ انیس فروری اور بعد ازاں تین مارچ کو اسلامآباد آئینگے
حکومت اگر گولی چلانا چاہتی ہے تو مجھے قتل کرے مظاہرین پر
گولیاں نہ چلائے
قاضی حسین احمد نے اعلان کیا ہے کہ
وہ اسلام آباد جانے والے جلوس کی قیادت خود کرینگے
|