Download urdu Font

 

 

 

 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 03 February 2006 14:55 (PST)اشاعت

صدر مشرف نے چار ماہ بعد واقع کی مذمت کی

ابو سفیان ۔ اسلام آباد

اردو سروس ۔نیٹ

صدر مشرف نے کارٹونوں کی اشاعت کی مذمت کی، تاہم یہ مذمت واقع کے چار ماہ بعد کی گئی

اسلامی دنیا میں پاکستان غالباََ سب سے آخر میں کارٹونوں کی اشاعت کرنے والا ملک ہے جبکہ صدر مشرف نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں یورپی ممالک میں شائع ہونے والے پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی چار ماہ بعد مذمت کی ہے

تاہم اس سے قبل اپوزیشن کارٹونوں کی اشاعت کی مذمت کر چکی تھی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ڈنمارک سے احتجاج کریں

صدر مشرف کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک میں یک بعد دیگرے کارٹونوں کی اشاعت تہذیبوں کے تصادم کا باعث بن سکتی ہے

مشرف کا کہنا تھا کہ یورپی اخبارات میں شائع ہونے والے کارٹونوں کا آزادی رائے سے تعلق نہیں ہے

انہوں نے کہا کہ آزادی رائے کے اظہار کا غلط استعمال کیا گیا ہے

ادھر پاکستانی سینیٹ نے بھی ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے جس میں یورپی اخبارات میں شائع ہونے والے کارٹونوں کی مذمت کی گئی

سینیٹ نے حکومت سے اس بارے میں اپنی کارروائی سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے

جمعرات کو پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے دعوی کیا تھا کہ پاکستان ڈنمارک سے کارٹونوں کی اشاعت کے فوری بعد احتجاج کر چکا ہے

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈنمارک حکومت سے رابطے میں ہے

جمعہ کو پاکستان بھر میں نماز جمعہ کے بعد ڈنمارک ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک کیخلاف شدید احجتجاج کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ڈنمارک اور دیگر مغربی ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کرے

مظاہرین نے ڈنمارک کے جھنڈوں کو بھی نذر آتش کیا

متحدہ مجلس عمل نے بدھ کے روز نماز جمعہ کے بعد پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا تھا

 

 

 

 

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

کالم۔تجزیئے

میڈیا فوکس