|
تاہم اس سے قبل اپوزیشن کارٹونوں کی
اشاعت کی مذمت کر چکی تھی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ
وہ ڈنمارک سے احتجاج کریں
صدر مشرف کا کہنا تھا کہ یورپی
ممالک میں یک بعد دیگرے کارٹونوں کی اشاعت تہذیبوں کے
تصادم کا باعث بن سکتی ہے
مشرف کا کہنا تھا کہ یورپی اخبارات
میں شائع ہونے والے کارٹونوں کا آزادی رائے سے تعلق نہیں
ہے
انہوں نے کہا کہ آزادی رائے کے
اظہار کا غلط استعمال کیا گیا ہے
ادھر پاکستانی سینیٹ نے بھی ایک
قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے جس میں یورپی اخبارات
میں شائع ہونے والے کارٹونوں کی مذمت کی گئی
سینیٹ نے حکومت سے اس بارے میں اپنی
کارروائی سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے
جمعرات کو پاکستانی وزارت خارجہ کی
ترجمان تسنیم اسلم نے دعوی کیا تھا کہ پاکستان ڈنمارک سے
کارٹونوں کی اشاعت کے فوری بعد احتجاج کر چکا ہے
تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان
ڈنمارک حکومت سے رابطے میں ہے
جمعہ کو پاکستان بھر میں نماز جمعہ
کے بعد ڈنمارک ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک کیخلاف شدید
احجتجاج کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ڈنمارک
اور دیگر مغربی ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کرے
مظاہرین نے ڈنمارک کے جھنڈوں کو بھی
نذر آتش کیا
متحدہ مجلس عمل نے بدھ کے روز نماز
جمعہ کے بعد پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان
کیا تھا
|