Download urdu Font

 

 

 

 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 14 February 2006 22:20 (PST)اشاعت

’بلوچستان میں سینکڑوں شہری اور فوجی ہلاک ہوئے‘

 

بلوچستان میں سینکڑوں شہری و فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ بلوچ سردار

حکومت پاکستان نے ڈیرہ بگٹی  زیر کنٹرول کرنے کے بعد اب مبینہ طور پر نواب اکبر خان بگٹی کو گرفتار کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں ، نواب اکبر خان بگٹی اس وقت بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں اپنے ساتھیوں سمیت

موجود ہیں جبکہ ان کی مبینہ فورس نے بھی ڈیرہ بگٹی کا علاقہ خالی کردیا ہے

حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن نہیں ہو رہا تاہم سیکورٹی فورسز فراریوں(دہشتگردوں) کی سرکوبی کر رہی ہے

حکومت کا کہنا ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی سمیت کئی سرداروں کو بیرون ملک سے مالی امداد کے علاوہ اسلحہ بھی ملتا ہے

نواب اکبر بگٹی کو بشمول مشرف حکومت ہر حکومت سے لاکھوں ڈالر ادا کرتی رہی ہے

تاہم پاکستان کی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو گولی کی بجائے مذاکرات سے حل کیا جائے

اکبر خان بگٹی و دیگر مبینہ منحرف سرداروں کے حامیوں نے گیس پائپ لائن کے علاوہ پانی کی پائپ لائن ، ریڈیو اسٹیشن ، پولیس اسٹیشن ، سیکورٹی فورسز، ٹیلی فون  اور بجلی گھروں کے دفاتر اور عمارتوں کو متعدد بار دھماکوں سے اڑایا ہے

بلوچستان میں گذشتہ دو برسوں میں یہ دوسرا فوجی آپریشن ہے جبکہ  کئی بلوچ سردار جن میں سیاستدان بھی شامل ہیں کا کہنا ہے کہ حکومت بری اور ہوائی فوج کے ساتھ بلوچ شہریوں پر حملے کر رہی ہے جس میں اب تک ساٹھ کے قریب شہری ہلاک  ہوگئے ہیں جبکہ سینکڑوں فوجی بھی اس آپریشن میں ہلاک ہوئے ہیں

تازہ ترین صورتحال کے مطابق متعدد بلوچ سرداروں کا اب مطالبہ ہے کہ بلوچ اپنا حق ہی نہیں بلکہ اب اس سے بھی ’ زیادہ ‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں

حکومت اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچ سرداروں کی طرف سے ’ زیادہ ‘ کا مقصد علیحدگی سے ہے

 

 

 

 

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

کالم۔تجزیئے

میڈیا فوکس