Download urdu Font

 

 

 

 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 12 May 2006 20:17 (PST)اشاعت

سرحد میں فحاشی کیخلاف پولیس ایکشن

صفدر علی دانش ۔ پشاور

اردو سروس ۔ نیٹ

پاکستانی ڈرامے ہند میں جبکہ ہندی فلمیں پاکستان میں پسندیدہ ہیں

وزیراعلی سرحد محمد آکرم خان درانی کی ھدایت پر پشاور پولیس نے بڑے پیمانے پر فحاشی اور عریانی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔پشاور کے تھانوں کے حدود میں نیٹ کیفوں سمیت فحاشی کے مراکز پر چھاپے مارے گئے

جبکہ متعدد لوگوں کو حراست میں لیا گیاہے

 ان افراد کے قبضے سے فحش سی ڈیز بر آمد کر لی ہیں

تفصیلات کے مطابق پشاور پولیس نے ورسک روڈپر ایک انٹرنیٹ کیفے پر چھاپہ مارا،اس دوران ایک مبینہ ملزم سعید ولد اکرم شاہ کو حراست میں لیا گیا

تھانہ شرقی پولیس نے کراچی مارکیٹ پر چھاپہ مارا اور اس دوران فحش فلم دیکھنے پر زر محمد ولد شاہ جہان اور ملا خان ولد میرا خان سمیت متعدد آفراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی

کراچی مارکیٹ کے قریب ھی شاھد نامی شخص کے ایک مکان سے فحاشی کے الزام میں افضل ولد یعقوب ،امان اور رومان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہیں

سول کالونی واقع ڈبگری میں فحش سی ڈیز فروخت کرنے پر ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی

اس طرح ھشتنگری پولیس نے حسینی پلازہ پر چھاپہ مارا جہاں فحش سی ڈیز فروخت کرنے پر انور زیب ولد محمد اسماعیل اور عمران محمود ولد محمودالحسن کو حراست میں لے لیا گیا

معلوم ہوا ہے کہ اس طرح پشاور کے مختلف تھانوں کی حدود سے بڑے پیمانے پر فحش مواد بر آمد کر لیا گیا ہے۔

پاکستان میں بڑھتے ہوئے سٹیج ڈراموں کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے یہ فحاشی پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں

سٹیج ڈراموں میں زیادہ سے زیادہ سامعین کو متوجہ کرنے کےلیئے اب اکثر سٹیج ڈراموں میں سٹیج اداکارہ ڈانس بھی کرتی ہیں جبکہ اداکار اور اداکارائیں ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کو اب بھی معاشرے میں سخت معیوب سمجھا جاتا ہے

حکومت نے گذشتہ دنوں دھوم دھام سے کچھ سٹیج ڈراموں کو بند کر دیا تھا جبکہ کئی اداکار اور اداکاراؤوں کیخلاف کیس بھی کیئے گئے تھے تاہم اس سے کچھ فرق نہیں پڑا
 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

کالم۔تجزیئے

میڈیا فوکس