|
متحدہ مجلس عمل نے گیارہ اکتوبر کو ملک میں تحریک
چلانے کا اعلان کیا تھا تاہم پاکستان میں شدید زلزلہ آنے کے بعد
انہوں نے حکومت کیخلاف ملک گیر تحریک چلانے کی کال واپس لے لی تھی
قاضی حسین احمد گذشتہ ایک مہینے کے دوران
اپنے مختلف بیانات میں مشرف حکومت کے خاتمے کے چا ر بیان دے چکے
ہیں جبکہ اتوار کو منصورہ میں اپنے کارکنوں سے خطاب میں انہوں نے
مشرف حکومت کیخلاف تحریک چلانے کی تیاریوں کا کہا ہے
قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ حکومت ڈیم کے مسئلے
کو پارلیمنٹ میں پیش کرے
متحدہ مجلس عمل کے رہنما نے اپنے خطاب میں کہا کہ
مشرف حکومت کے خاتمے کے بعد مزید کسی فوجی جرنیل کو قبول نہیں کیا
جائے گا
اس سے پہلے جمیت علمائے پاکستان فضل الرحمان گروپ
کے سربراہ مولانا فضل الرحمان یہ بیان دے چکے ہیں کہ ہم کسی ایسی
تحریک کا حصہ نہیں بنے گے جو فرد واحد کو ہٹانے کےلیئے چلائی جائے
گی
قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے میں
کوئی دراڑ نہیں پڑی اور جماعت میں اتحاد ہے اس لیئے ان کے کارکن
ایم ایم اے کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط خبروں پر دھیان نہ
دیں اور تحریک چلانے کی تیاریاں کریں
قاضی حسین احمد نے سن دو ہزار سات میں ہونے والے
ممکنہ انتخابات کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
یہ الیکشن بھی سابقہ الیکشنوں جیسے ہونگے جنہیں ہم گذشتہ الیکشنوں
میں دیکھ چکے ہیں |