|
انکار کے بعد ڈپٹی سپیکر
سرحد اسمبلی اکرام اللہ شاہد نے صوبائی
کابینہ کو تحلیل کیئے جانے
کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہو
گئی ہے
معلوم ہوا ہے کہ ایم ایم اے کے
صوبائی حکومت کے پالیسیوں سے تنگ آکر ایم ایم اے کے ھی اراکین نے
اپنے حقوق کے حصول کے لئے فارؤڈبلاک قائم کر دیا ہے
اس فاروڈ
بلاک میں پہلے 17 اور اب 25 ممبران کی تعداد بتائی جا
رہی ہے
اس فاروڈبلاک
کا غیر اعلانیہ لیڈر مولانا ادریس کو بتایا جا رہا ہے
زرایع کے مطابق فاروڈبلاک
کے تمام اراکین نے پشاور میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔جبکہ کئی صوبائی
وزرا سمیت متحدہ مجلس عمل کے کئی مرکزی رہنماں اس قضیے کو ختم کرنے
کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں
تاہم
تاحال کوئی مشبت پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ
پشاور میں صوبائی اسمبلی کے تحلیل اور گورنر راج نافز کرنے کی
آفواہیں زوروں پر ہے۔ |