|
عدالت کا کہنا تھا کہ ََ وہ کیا وجہ ہے کہ اب تک
خالد شیخ اور دیگر آٹھ افراد کو عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا اور
نہ ہی یہ بتایا جا رہا ہے یہ لوگ کہاں ہیں اور ان کو کہاں رکھا گیا
ہے؟
حکومت پاکستان کی طرف سے گرفتار ہونے والوں میں سے
ایک شخص کی بیوی کی طرف سے عدالت میں کیس کیا گیا ہے جس پر عدالت
نے کارروائی کرتے ہوئے حکومتی وکیل کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کہ
وہ ان لوگوں کے بارے میں بتائیں کہ یہ کہاں ہیں
پاکستان میں گرفتار کیئے جانے والے مبینہ
دہشتگردوں کا کیس اس وقت سامنے آیا جب یورپ میں ایک طرف امریکہ کے
ان جہازوں کے بارے میں انکوائری ہو رہی ہے جن میں سی آئی اے قیدیوں
کو گرفتار کر کے مختلف ممالک میں بھیجتی رہی تو دوسری جانب جرمنی
میں لبنانی نژاد جرمن شہری خالد المصاری کے سی آئی اے ہاتھوں اغوا
اور بعد ازاں انہیں افغانستان میں پانچ ماہ تک قید کرنے اور ان پر
تشدد کرنے کا سکینڈل سامنے آیا ہے
خالد المساری کے کیس کی وجہ سے جرمنی میں سابقہ
اور موجودہ حکومت سخت دباؤ میں ہیں کیونکہ سی آئی اے کا کہنا ہے کہ
جرمن شہری خالد المصاری کی گرفتاری کی اطلاع حکومت کو دے دی گئی
تھی
پاکستان میں صدر مشرف نے مبینہ دہشتگردوں کیخلاف
جنگ شروع کی ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ دہشتگردی کا خاتمہ کر
کے دم لیں گے
راولپنڈی سے خالد شیخ کی گرفتاری کے بعد پاکستانی
اخبارات کا کہنا تھا کہ سی آئی اے نے خالد شیخ سے سب کچھ اگلوانے
کےلیئے ان کی بیوی اور بیٹی کو بھی گرفتار کر لیا تھا اور انہیں
نامعلوم مقام پر پہنچا دیا گیا تھا
حکومت نے امریکہ میں ستمبر کے واقع کے بعد درجنوںافراد
کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا جبکہ پاکستان کی سر زمین پر
پولیس اور فوجی آپریشنوں میں بھی سینکڑوں افراد کو دہشتگرد قرار دے
کر ہلاک کر دیا گیا
سی آئی اے کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے بعض افراد
کو تفتیش کےلیئے کئی مسلمان ممالک میں بھی رکھا گیا تھا
اس سلسلے میں پاکستان سمیت مصر کا نام سر فہرست ہے
جہاں ان لوگوں سے سخت تفتیش کی جاتی تھی
انسانی حقوق کی سب سے بڑی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل
کا کہنا ہے کہ سی آئی اے گرفتار کیئے گئے لوگوں کو مصر کی حکومت کے
حوالے کرتی رہی ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ مصر سی آئی اے سے زیادہ
سختی سے تفتیش کر سکتا ہے
|