|
ان خیالات کا اظہار صوبائی
وزیر مزہبی امور مولانا امان
اللہ حقانی نے عوامی نیشنل پارٹی کے
پارلیمانی لیڈر بشیر احمد بلور کی تحریک التوا کے جواب میں کیا
مولانا امان
اللہ نے ایوان کو بتایا کہ امامت کوئی خاندانی یا موروثی عہدہ نہیں
جو پشت در پشت چلتا رہے۔بلکہ جو بھی اسلامی تعلیمات کی رو سے اس پر
پورا اترےگا، وہی اس کا اہل ہو گا
انہوں نے یقین دھانی کرائی کہ
وہ مساجد جن میں پشت در پشت جو خطیب چلے آرہے ہیں۔ان میں بھی اگر
کوئی اس وقت امامت کی شرائط پر پورا اترے گا،تو اسے امامت کے عہدے
پر برقرار رکھا جائے گا
قبل ازیں
بشیر احمد بلور نے کہا کہ حکومت نے نئے
امام حضرات کی بھرتی کے لئے اشتہار دے کر خاندان در خاندان چلے
آنے والے آئمہ حضرات کو مشکل میں ڈال دیا
ہے
انہوں نے کہا کہ ان امام
حضرات نے مساجد کی کافی خدمت کی ہے لہذا
انہیں یا ان کے بیٹوں کو برقرار رکھا جائے
گا
اس تحریک التوا کی حمایت ڈپٹی
سپیکر اکرا م اللہ شاہد نے بھی کی
صوبائی وزیر کے وضاحت سے بشیر
احمد بلور جو اس تحریک کے محرک تھے،مطمئن نہیں ہوئے اور یہ معاملہ
بحث کے لئے منظور کر لیا گیا۔ |