|
تاھم پشاور پولیس نے آنے والے
متاثرین کو رپورٹ( ایف آئی آر )درج کئے بغیر میٹھی
گولی دینی شروع کر دی ہے۔یکہ توت،فقیر آباد،ڈبگری، اور آندرون شہر
کے دیگر تنگ و تاریک گلیوں میں سر عام لوٹنے کا سلسلہ شروع ہو گیا
ہے
پشاور سمیت دیگر مختلف علاقوں
کے درجنوں افراد پر مشتمل یہ گروہ نہ صرف
راہزنی کے واقعات میں ملوث ہیں۔بلکہ اس گروہ نے شہر کے آندر گاڑیاں
چھیننے اور اغوا کے وارداتوں میں بھی ھاتھ
مارنا شروع کر دیا ہے
اس بات کا اظھار پشاور پولیس
کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کیا
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے
اس گروہ کے گرفتاری کے لئے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں
جنہوں نے مختلف خطوط پر کام شروع کر دیا ہے
ان ٹیموں کی براہ راست نگرانی
چیف کیپیٹل سٹی پولیس حبیب الرحمان کر رہے ہیں
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ان
ٹیموں نے کافی حد تک کام مکمل کیا ہے اور
عوام جلد ہی خوشخبری سنیں گے
واضح رہے کہ صدر پاکستان کے
لاکھ کوششوں کے باوجود پاکستانی پولیس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں
آئی ہے، وہی پرانا طریقہ کار ہے، جس کے تحت
جرائم میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ |