ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:20 PSTاشاعت

 

صدر مشرف کی کوششیں اور پولیس کا رویہ

 
 

صفدر علی دانش ۔ پشاور

اردو سروس ۔ نیٹ

   

 

لوگوں کا کہنا ہے جرم دار بچ جاتا ہے اور بے جرم گرفتار کر لیا جاتا ہے

صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک مرتبہ پھر امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو گئی ہے اھم شاہراہوں اور گلی کوچوں میں خطرناک ڈاکوؤں نے اسلحہ کی نوک پر وارداتوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔جس کے تحت لوگون سے موبائیل سیٹ اور نقد رقم اڑا لیتے ہیں۔

تاھم پشاور پولیس نے آنے والے متاثرین کو رپورٹ( ایف آئی آر )درج کئے بغیر میٹھی گولی دینی شروع کر دی ہے۔یکہ توت،فقیر آباد،ڈبگری، اور آندرون شہر کے دیگر تنگ و تاریک گلیوں میں سر عام لوٹنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے

پشاور سمیت دیگر مختلف علاقوں کے درجنوں افراد پر مشتمل یہ گروہ نہ صرف راہزنی کے واقعات میں ملوث ہیں۔بلکہ اس گروہ نے شہر کے آندر گاڑیاں چھیننے اور اغوا کے وارداتوں میں بھی ھاتھ مارنا شروع کر دیا ہے

اس بات کا اظھار پشاور پولیس کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کیا

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس گروہ کے گرفتاری کے لئے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جنہوں نے مختلف خطوط پر کام شروع کر دیا ہے

ان ٹیموں کی براہ راست نگرانی چیف کیپیٹل سٹی پولیس حبیب الرحمان کر رہے ہیں

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ان ٹیموں نے کافی حد تک کام مکمل کیا ہے اور عوام جلد ہی خوشخبری سنیں گے

واضح رہے کہ صدر پاکستان کے لاکھ کوششوں کے باوجود پاکستانی پولیس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے، وہی پرانا طریقہ کار ہے، جس کے تحت جرائم میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں