ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:20 PSTاشاعت

 

قارئین کا صحافت سے اعتبار اٹھ چکا ہے

 

صفدر علی دانش ۔ پشاور

اردو سروس ۔ نیٹ

   

 

صدر مشرف اور وزیر اعظم سے مداخلت کی اپیل

جمہوریت کا چوتھا ستون ’ صحافت ’پاکستان میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہے۔صحافت جو 1980 کی دھائی تک یہاں مشن کے طور پرتھی،اب ایک انڈسٹری بن چکی ہے۔جہاں پہلے کروڑوں روپے سرکاری اشتہارات کے حصول کے لئے نئے نئے سرمایہ کار نت نئے ناموں سے

 اخبارات شروع کرتے رہے۔لیکن اب اشتہارات کے ساتھ ساتھ کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے ایسے ایسے سمگلر بھی اس میدان میں اگئے ہیں،جن کا مطمع نظر صحافت نہیں بلکہ اپنے کالے کاروبار پر صحافت کی چتھری رکھنا ہے

پاکستان میں ’ صحافت ’ کے ابتری کا یہ عالم ہےکہ کارکن صحافیوں کو 1973 کے آئین کے تحت ویج ایوارڈ دینے کے بجائے مالکان اخبارات صحافیوں کو تنخواہ نہیں دیتے۔بلکہ بعض اخباری مالکان تو ایسے کہ جو اپنے صحافیوں سی تقاضا کرتے ہے کہ ’ خود بھی کماؤ اور ہمیں بھی لاکر دو ’یہی وجہ ہے کہ یہاں کے زی شعور شہری اکثر اخبارات  پر  یقین نہیں رکھتے، کہ یہ سچ ہو گا

 پشاور کے مقامی صحافی اور پی ایف یو جے(پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس)جو پاکستان کے کارکن صحافیوں کی حقوق کی نمائندہ تنظیم ہے،کے فنانس سیکرٹری ابراہیم خان نے  اردو سروس جرمنی کو بتایا کہ پاکستان میں صحافیوں کو ویج بورڈ ایوارڈ کے مطابق تنخواہ نہ ملنے سے صحافت کے پیشے میں اب صحافی کم اور بلیک میلر زیادہ آ رہے ہیں جس سے ایک طرف سحافت کا معیار گر رھا ہے تو دوسری طرف عوام کا بھی صحافت پر سے اعتماد اٹھ رھا ہے

ابراہیم خان کے مطابق اخباری دفاتر اب عقوبت خانے بن چکے ہیں جہاں سب سے زیادہ استحصال کارکنوں کا ہی ہوتا ہے

ملک بھر کے صحافی گزشتہ پانچ برس سے اس بات کی جدوجہد کر رہے ہیں کہ حکومت اس قانون پر عمل در آمد کروائے جس کے تحت صحافیوں کی اجرت ایوارڈ پانچ سال پہلے آیا تھا

ابراہیم خان نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات سے لے کر ملک کے اعلی حکام تک اخباری مالکان کے مٹھی میں ہیں یہی وجہ ہے کہ صحافیوں کو قانون کے مطابق اجرت نہیں مل رہی

انہوں نے بتایا کہ اخباری مالکان نے  صحافیوں کے نہ صرف حقوق غصب کئے بلکہ انہوں نے آزادی صحافت کو اپنے اشتہارات کے حصول کی وجہ سے داؤ پر لگا دیا ہے

اشتہارات حاصل کرنے کی اس دوڑ کی وجہ سے تحقیقی صحافت دم توڑ گئی ہے

پاکستان میں صحافیوں کی صورتحال تو اب روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے لیکن صوبہ سرحد میں صورتحال کچھ زیادہ ہی خراب ہے۔صوبائی دارالخلافہ پشاور میں ڈھائی سو سے زیادہ رجسٹرڈ ممبران پریس کلب میں سے صرف 20 صحافیوں کو ویج بورڈ کے مطابق تنخواہ ملتی ہے جبکہ باقی تمام صحافی ایسے ہیں جن کے پاس تقررنامے تک نہیں ایسی صورتحال کے پیش نظر پشاور کے ایک اور سنئر صحافی محمد فدا خٹک کا کہنا ہے کہ بظاہر پاکستان میں صحافت باہر کی دنیا کے لئے ایک پرکشش اور معزز پیشہ نظر آ رہا ہے۔لیکن افسوس ایسا نہیں

انہوں نے کہا کہ اس شعبے پر بھی چند مخصوص بنیادی زہنیت کے حامل اخباری مالکان اور ان کے نمک خوارں کی اجاراداری قائم ہے جو کہ اپنے مفاد کے لئے کارکن صحافیوں کا خون ایک پسندیدہ مشروب سمجھ کر پی رہے ہیں

 فدا خٹک نے بتایا کہ وہ صحافی جو کہ کسی اخبار کے لئے کام کرتے ہوئے اپنی زندگی کے بہترین سال محنت کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں ،لیکن مالکان کی طبع نازک سے مطابقت نہ رکھنے والی ایک معمولی سی بات پر انہیں بیک جنبش قلم نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے

صحافی جو ساری دنیا جہاں کی خبریں شائع کرتے ہیں ،جو کہ ظلم و نا انصافی کے خلاف ہمیشہ اپنے قلم کو استعمال کرتے ہیں  لیکن جب ان صحافیوں پر برا وقت آتا ہے تو ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہو تا

انہوں نے بتایا کہ ضرورت اس امر کی ہے کارکن صحافیوں کی آواز حکام اور عوام تک پہنچانے کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم موجود ہو جہاں سے ان مظلوم اور جبر کے شکار صحافیوں کی داد رسی ہو۔اس کے علاوہ اخبارات کے مالکان و مدیران کے چہروں سے دوغلی پالیسی کا نقاب ہٹایا جائے

فدا خٹک نے عزم ظاہر کیا کہ وہ عنقریب اپنے دوستوں اور ہم خیال صحافیوں کی ایک ٹیم بنا کر ایک ایسا مجلہ شائع کریں گے۔جو کہ بے رحم اخباری مالکان کے ظلم کا پردہ چاک کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم کا کام دے گا۔اس طرح بعض صحافیوں نے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف،وزیر اعظم شوکت عزیز اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خدارا اخباری مالکان کے بلیک ملنگ سے باہر آئیں اور ان صحافتی قزاقوں سے متعلق اعلی سطحی تحقیقات کریں تاکہ صحتمندانہ صحافت کی روایت جنم لے سکیں۔

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں