|
تعداد یا ٹھوس حقائق بتانے
سے قاصر ہے جبکہ حکومتی وزیر اقبال احمد خان نے اپنے
بیان میں ہلاک
شدگان کی تعداد ستاسی ہزار بتائی ہے تاہم فوجی حکام نے ہلاک شدگان
کی اس تعداد کو غلط قرار دیا ہے
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ
ہلاک شدگان کی وہ تعداد درست ہے جو ریلیف کشمنر نے جاری کی ہے
وزارت خزانہ کے مشیر اقبال
احمد خان نے اپنے بیان میں ہلاک شدگان کی جو تعداد بتائی ہے ان کے
مطابق یہ ایک عالمی ادارے کی طرف سے جاری تعداد ہے
اقبال احمد خان کے مطابق
ہلاکتوں میں اضافہ اس لیئے ہوا کہ جن علاقوں میں امدادی ٹیمیں نہیں
پہنچ سکیں وہاں اب پہنچی ہیں جس کی وجہ سے تعداد میں اضافہ ہوا ہے
حکومت کا کہنا ہے ہلاک ہونے
والوں کی تعداد چوہتر ہزار ہے جبکہ اس سے پہلے ہلاک شدگان کی تعداد
کے بارے میں متعدد بار حکومت کے بیانات میں تضاد سامنے آیا جبکہ
پاکستان کے جدید ادارے نادرا نے تاھال کسی بھی متاثرہ گاؤں یا شہر
کا ڈیٹا بیس شائع نہیں کیا
واضع رہے اب تک سینکڑوں
مقام ایسے ہیں جہاں امدادی ٹیمیں پہنچی ہی نہیں ہیں اور ہزاروں
افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جبکہ وزیر اعظم شوکت عزیز
کے دعوی کے مطابق ہر جگہ امداد پہنچ چکی ہے |