ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:19 PSTاشاعت

 

سردی سے پہلے انتظام کرنا ہوگا۔حکومت۔ یو این او

 

زاہد سرور ۔ مظفرؤباد

اردو سروس ۔ نیٹ

 

زیر نظر تصویر ایک خیمے کی ہے جس میں ایک متاثرہ خاندان کی لڑکی بیٹھی ہے

حکومت اور اقوام متحدہ کے علاوہ نیٹو افواج کا یہ کہنا ہے کہ سردیوں سے پہلے متاثرین کےلیئے رہائش کا بندو بست کرنا ہوگا ورنہ ہزاروں افراد کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ ادھر شدید سردی نے زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے دو لاکھ متاثرین کی

ہلاکتوں کا خطرہ اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے

کشمیر کے علاوہ سرحد کے ان علاقوں میں بھی شدید سردی پڑ رہی ہے جو زلزلے سے متاث ہوئے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ََ  سردیوں کے آنے سے پہلے متاثرین کو رہائش دے دی جائیگی

صدر مشرف ، وزیر اعظم شوکت عزیز وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد اور ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد کے علاوہ فوج کے ترجمان میجر جنرل سلطان شوکت کا کہنا ہے کہ تمام متاثرین کو خیمے پہنچا دیئے گئے ہیں اور کسی مقام پر ایسا کوئی شخص نہیں جس تک امداد نہ پہنچی ہو

حکومت کے ذمہ داران کے بیانات کے بر عکس ابھی تک کم و بیش دو لاکھ متاثرین امداد سے محروم ہیں اور جن تک فوج اور دیگر امدادی تنظیمیں پہنچی ہیں ان کی حالت بھی فاقہ کشوں جیسی ہے

پاکستان کا اکثر میڈیا اب وہی بیانات دے رہا ہے جو حکومت کی طرف سے جاری کیئے جاتے ہیں تاہم حقیقت اس کے بر عکس ہے

اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر ہے جبکہ حکومت اور فوج نے یہ تعداد پچھتر ہزار بتائی ہے

زلزلے سے منہدم ہونے والے ایک اسکول ماسٹر اصغر بٹ کا کہنا ہے کہ ََ حکومت اور فوج کو کونسی سردی کا انتظار ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ سردیوں سے پہلے متاثرین کےلیئے خیموں اور رہائش کا بندو بست کر لیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ آپ مظفرآباد کے ذرا سے اوپر کے علاقے میں جائیں تو آپ کو اب سردی سے ہلاک ہونے والوں کی خبریں ملے گی

ماسٹر اصغر بٹ کا کہنا تھا کہ آپ کو اگر سردی سے کسی کے ہلاک ہونے کی خبر ملے تو سمجھ لیجئے گا ہلاک ہونے والا بیمار تھا یا وہ بچہ تھا

تین دن پہلے خود اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بیان دیا تھا کہ دو لاکھ افراد ابھی تک امداد سے محروم ہیں

کوفی عنان سے سردی سے ممکنہ ہلاکتوں کی وجہ سے بیان دیا تھا کہ پہاڑوں اور اونچے مقامات پر رہنے والے نیچے آ جائینگے

دو ہفتے قبل تک کسی ٹینٹ میں دو رضائیوں کے بغیر رات نہیں گزرتی تھی جبکہ اس وقت برفباری بھی شروع ہو چکی ہے

مظفرآباد کے اسکول ماسٹر اصغر بٹ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اکیلی آدھے پاکستان کی تباہی سے نمٹنا چاہتی ہے جو کہ اس کے بس کی بات نہیں لیکن حکومت کسی سول حکومت یا اپوزیشن کو ساتھ ملانا نہیں چاہتی اور اپنی سیاست کا کھیل کھیل رہی ہے

ان کا کہنا تھا کہ اب جو بھی ہلاکتیں ہونگی وہ حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہونگی جنہوں نے ہمارے خاندانوں کی ہلاکتوں پر سیاست کی اور کر رہے ہیں جبکہ اس قیامت کی حالت میں حکومت کو ملک کے ہر فرد کی امداد لینا چاہیئے تھی

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں