|
ہیلی کاپٹروں کے
ذریعے لائے جانے والے کچھ زخمیوں کو کشمیر میں بنے ہوئے امدادی
فیلڈ ہسپتالوں میں بھی رکھا جاتا ہے جبکہ بعض زخمیوں کو راولپنڈی
اور دیگر ہسپتالوں میں بھی منتقل کر دیا جاتا ہے
ڈاکٹر عامر عزیز
جو آرتھو پیڈک سرجن ہیں کو نائن الیون کے بعد اس الزام میں گرفتار
کر لیا تھا کہ انہوں نے القائدہ رہنماؤں کا علاج کیا تھا
ڈاکٹر عامر عزیز
پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن سے ملاقات کی
تھی جبکہ قانون نافذ کرنے والوں کا کہنا تھا کہ ان کے تعلقات اسامہ
بن لادن کے ساتھ تھے
ڈاکٹر عامر عزیز
کو لمبے عرصے تک حراست میں رکھا گیا تھا اور ان کے اہل خانہ کو ان
کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا
سن دو ہزار دو
میں ان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر پہنچا دیا گیا تھا اور ان
سے تفتیش کی گئی تھی
ڈاکٹر عامر عزیز
کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں گرفتاری اور بعد ازاں عدالت کے بار بار
حکم دیئے جانے پر انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تھا
ڈاکٹر عامر کے
بھائی اور دیگر افراد کا کہنا تھا کہ ان سے تفتیش کرنے والوں میں
سی آئی اے کے ایجنٹ شامل تھے
ڈاکٹر عامر کی
گرفتاری کیخلاف متحدہ مجلس عمل سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے
احتجاج کیا اور مظاہرے بھی کیئے تھے
آٹھ اکتوبر کو
آنے والے شدید زلزلے کے بعد جہاں دیگر کئی اسلامی اور کالعدم
اسلامی جماعتیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں وہیں اب ڈاکٹر عامر
عزیز بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں فیلڈ ہسپتال میں دن رات
زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں
وزیر اعظم شوکت
عزیز نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ امدادی کاموں کا کریڈٹ فوج
کو جاتا ہے ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ََ امدادی کارروائیاں فوج
کی مرہون منت ہیں ََ اس طرح وزیر اعظم نے کم از کم
18ہزارافراد کو جو دن رات
متاثرین تک امداد پہنچانے میں مصروف ہیں کی خدمات سے سرے سے ہی
انکار کردیا ہے |