ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:20 PSTاشاعت

 

بینکوں کی رقوم کا کوئی اتہ پتہ نہیں

 

زاہد سرور ۔ مظفرآباد

اردو سروس ۔ نیٹ

 

کالعدم اور اسلامی امدادی تنظیموں کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل نہیں

کشمیر میں منہدم ہونے والے بینکوں کی رقم کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ دستیاب ہوسکی یا نہیں۔ زلزلے سے متاثر ہونے والے جن کے عملے کے اکثر افراد ہلاک اور معذور ہو چکے ہیں میں پڑی رقوم کے بارے میں مقامی یا وفاقی حکومت نے کوئی بیان نہیں دیا

کشمیر کے ان بینکوں میں جو زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں میں کم از کم پچیس کروڑ روپے موجود تھے

ادھر علاقے کے کئی سکول ایسے ہیں جہاں اب بھی ملبے تلے بچے اور دیگر افراد دبے ہوئے ہیں جبکہ حکومت نے دعوی کیا ہے کہ دبے ہوئے نوے فیصد افراد کو ملبوں سے نکال لیا گیا ہے اور تقریباََ مظفرآباد کا سارا ملبہ ہتا دیا گیا ہے تاہم مظفرآباد میں اب بھی تا حد نگاہ گرے ہوئے مکانات اور عارتیں نظر آ رہی ہیں

مظفرآباد کی اونچائی کے علاقوں میں امداد پہنچائی جا رہی ہے لیکن دوردراز کے سینکڑوں علاقے اب بھی پچیس دن بعد امداد سے قطعی محروم ہیں

اسلامی اور سول امدادی جماعتوں کے کارکن اب بھی انفرادی طور پر دوردراز کے علاقوں میں امدادی سامان کے ساتھ جا رہے ہیں جبکہ نیٹو کے فوجی بھی اب ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان اور ادویات وغیرہ لے کر ان علاقوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جو مشکل ترین راستوں کی وجہ سے پہنچ سے دور تھے

ادھر ایم کیو ایم کی پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے امدادی کیمپ کر نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا تھا اور کیمپ میں توڑ پھوڑ کی اور کیمپ میں موجود زخمیوں کو بھی زدوکوب کیا جبکہ وہاں پہنچنے پر سننے میں آیا کہ واقع اس قدر بڑا نہیں تھا جبکہ کئی دیگر افراد کا کہنا تھا کہ یہ واقع پارٹی نے دوسری مخالف جماعتوں کو علاقے سے نکوالنے کےلیئے مشہور کیا ہے

ایم کیو ایم نے کیمپ پر مبینہ حملے کے بعد اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقے میں موجود ایسے افراد پر پابندیاں عائد کی جائیں جو حملے میں ملوث ہیں تاہم ایم کیو ایم نے واضع طور پر کسی فریق کا نام نہیں لیا

غیر سرکاری اور کالعدم جماعتوں کے امداد کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امداد اب بھی اتنی نہیں پہنچ رہی جو دوردراز کے علاقوں تک پہنچائی جا سکے

ان امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہم اپنے طور پر جو امداد دوردراز کے علاقوں میں لے کر جاتے ہیں وہ ناکافی ہوتی جبکہ حکومت نے کئی کالعدم اور غیر سرکاری امدادی تنظیموں کو ہیلی کاپٹروں سے امداد لے کر جانے کی اجازت نہیں دی

اس بارے میں حکومت نے اپنا موقف بتاتے ہوئے کہ رش کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کو کلیرنس نہیں دی جا سکتی

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں