|
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ جو
ڈاکٹرایسے افراد کے گردے نکالتے ہیں جو اس نے فروخت کیا ہے وہ
ڈاکٹر بھی مجرم ہیں
سپریم کورٹ نے کہا کہ پندرہ
دسمبر کو چاروں صوبوں کے سیکرٹری ہیلتھ چاروں ایڈووکیٹ اوراٹارنی
جنرل پیش ہو کر بتائیں کہ گردوں کی فروخت اور انسانی اعضا، کی
فروخت کے بارے کونسا قانون موجود ہے
واضع رہے پاکستان میں اکثر لوگ
غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے گردے فروخت کردیتے ہیں جنہیں
پرائیوٹ کلینک کے ڈاکٹر نکال کر مہنگے داموں ملکی اور غیر ملکیوں
کو لگا دیتے ہیں
سپریم کورٹ کے اس سلسلے میں فل
پنچ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس محمد نواز عباسی اور
جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل تھا
اس سلسلے میں ایک مریض نے
درخواست دی تھی کہ راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں اس کا گردہ نکال
لیا گیا تھا
اس سلسلے میں چار افراد کو ملزم
ٹھہرایا گیا ہے جن میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے
کہا کہ گردے کی فروخت ہر صورت میں جرم ہے
تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کوئی
اپنے کسی عزیز کو گردہ عطیہ کرتا ہے وہ اس جرم میں شامل نہیں
واضع رہے راوپلنڈی کے قریب ایک
نجی ہسپتال میں گردوں کی خرید وفروخت ہوتی ہے جس کے بارے میں ایک
غیر ملکی چینل نے بھی دستاویزی فلم دکھائی تھی |