Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 22 November 2006 20:49 (PST)اشاعت

غیر ملکیوں سے بھاری رقوم لے کر گردے لگائے جاتے ہیں

گردوں کی خریدوفروخت کی ہر صورت جرم ہے، چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں ایسے ڈاکٹروں اور گروہوں کیخلاف از خود نوٹس لے لیا ہے جو غیر قانونی طور پر مریضوں کے گردے نکال کر فروخت کر دیتے ہیں

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ جو ڈاکٹرایسے افراد کے گردے نکالتے ہیں جو اس نے فروخت کیا ہے وہ ڈاکٹر بھی مجرم ہیں

سپریم کورٹ نے کہا کہ پندرہ دسمبر کو چاروں صوبوں کے سیکرٹری ہیلتھ چاروں ایڈووکیٹ اوراٹارنی جنرل پیش ہو کر بتائیں کہ گردوں کی فروخت اور انسانی اعضا، کی  فروخت کے بارے کونسا قانون موجود ہے

واضع رہے پاکستان میں اکثر لوگ غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے گردے فروخت کردیتے ہیں جنہیں پرائیوٹ کلینک کے ڈاکٹر نکال کر مہنگے داموں ملکی اور غیر ملکیوں کو لگا دیتے ہیں

سپریم کورٹ کے اس سلسلے میں فل پنچ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل تھا

اس سلسلے میں ایک مریض نے درخواست دی تھی کہ راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں اس کا گردہ نکال لیا گیا تھا

اس سلسلے میں چار افراد کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے جن میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ گردے کی فروخت ہر صورت میں جرم ہے

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اپنے کسی عزیز کو گردہ عطیہ کرتا ہے وہ اس جرم میں شامل نہیں

واضع رہے راوپلنڈی کے قریب ایک نجی ہسپتال میں گردوں کی خرید وفروخت ہوتی ہے جس کے بارے میں ایک غیر ملکی چینل نے بھی دستاویزی فلم دکھائی تھی

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات