|
چوہدری شجاعت نے کہا کہ اگر
حقوق نسواں میں غیر شرعی شقیں ہوئیں تو حکومت ان کے بارے میں غور
کریگی کہ انہیں نکالنا چاہیئے یا اس کےلیئے کونسا راستہ بہتر رہے
گا
مذہبی علما، جن میں مفتی
منیب الرحمان ، قاری محمد حنیف جالندھری اور مولانا تقی عثمان کے
علاوہ دیگر متعدد علما، شامل تھے نے حقوق نسواں کے بارے میں
مذہبی جماعتوں اور علما، کے نقطہ نظر سے چوہدری شجاعت حسین کو
آگاہ کیا
چوہدری شجاعت حسین جنہوں نے بل
میں غیر شرعی شقیں موجود ہونے پر استعفے دینے کا اعلان کیا تھا
نے کہا کہ اگر حقوق نسواں میں کوئی بات غیر شرعی ہوئی تو ہم اس
کیخلاف ہیں
علما، نے کہا کہ حقوق نسواں کا
جو قانون بنایا گیا ہے اس میں چار شقیں غیر شرعی ہیں
اسی بارے اگلی میٹنگ کراچی میں
چھ دن بعد ہوگی
چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا
کہ حقوق نسواں کا مسئلہ سیاسی تھا تاہم اسے مذہبی مسئلہ بنا دیا
گیا ہے
علما، نے ملاقات کے بعد میڈیا
سے بات چیت کرتے ہوئے کہ ہم نے چوہدری شجاعت حسین احمد کو بتا
دیا ہے کہ حقوق نسواں میں کہاں غلط ہے
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس
مسئلے کو طول دیتی ہے تو یہ قوم کےلیئے اور حکومت مناسب بات نہیں
ہوگی
اس ملاقات میں وزیر اطلاعات
محمد علی درانی اور شیخ رشید نے بھی شرکت کیا
|