Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Thursday, 30 November 2006 13:46 (PST)اشاعت

متحدہ مجلس عمل کے متعدد اہم رہنما گرفتار

ابو سفیان

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، اسلام آباد

خواتین نے بھی حدود کے ترمیمی بل کیخلاف احتجاج کیا ہے

متحدہ مجلس عمل کی شجاعت حسین سے استعفے کے مطالبہ کےلیئے نکالی گئی احتجاجی ریلی کو گجرات نہیں جانے دیا گیا

پولیس نے لاہور میں بھی متحدہ مجلس عمل کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کرلیا ہے جن میں

لیاقت بلوچ، حافظ حسین احمد کے علاوہ دیگر کئی اہم ارکان شامل ہیں

پولیس نے لاہور میں جماعت اسلامی کے بڑے دفتر منصورہ کو بھی اپنے حصار میں لے لیا ہے اور منصورہ کی ناکہ بندی کر دی ہے

پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ پنجاب میں دفعہ ایک چوالیس لگی ہوئی ہے اور جلسے جلوسوں پر پابندی عائد ہے

ادھر قاضی حسین احمد بنا، کچھ اطلاع کے گوجرانوالہ پہنچ گئے تھے جہاں سے انہوں نے گجرات جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے ان کو روک دیا

چوہدری شجاعت حسین نے کہا تھا کہ اگر حقوق نسواں بل غیر شرعی ہوا تو وہ استعفی دے دینگے اور متحدہ مجلس عمل نے یہ احتجاجی ریلی گجرات میں ان سے استعفے کا مطالبہ کرنے کےلیئے نکالی تھی

چوہدری شجاعت حسین کیخلاف ریلی گجرات جائیگی

متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی احتجاجی ریلی تیس نومبر کو لاہور سے گجرات جائیگی جہاں چوہدری شجاعت حسین سے استعفے کا مطالبہ کیا جائیگا، واضع رہے چوہدری شجاعت نے اسمبلی میں یہ کہتے ہوئے اپنا استعفی اسپیکر کے حوالے کردیا تھا کہ اگر حقوق نسواں بل غیر اسلامی ہے تو ان کا استعفی قبول کیا جائے

ادھر متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل سات دسمبر کو باضابطہ طور پر اسمبلی سے استعفے دے دے گی انہوں نے چکوال میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ مجلس عمل سات دسمبر کو باضابطہ استعفے دے کر دے کر حکومت کیخلاف تحریک کا آغاز کریگی

واضع رہے اس سے قبل قاضی حسین احمد نے کہا تھا کہ دسمبر کے پہلے پارلیمانی اجلاس میں تقاریر اور بل کیخلاف احتجاج کرکے استعفے دے دیئے جائینگے

چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ استعفے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں تقاریر کرنے اور احتجاج کرنے کے بعد دیئے جائینگے ، قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف اور شوکت عزیز حدود کے  ترمیمی بل کو اسلامی ثابت کریں

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں تقاریر کے بعد استعفے دے دیئے جائینگے

قاضی حسین احمد نے زور دے کر کہا کہ جب تک اسمبلی میں احتجاج اور تقاریر نہیں کر لیتے اس وقت تک باضابطہ طور پر استعفے نہیں دینگے

استعفے دھرے کے دھرے رہ جائینگے

ایک رات قبل ہی متحدہ مجلس عمل نے اعلان کیا تھا کہ وہ حدود کے ترمیم شدہ سرکاری بل کیخلاف قومی اسمبلی کے نئے سال کے پہلے اجلاس میں استعفے اسپیکر کے حوالے کردیں گے تاہم اب ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا

وزیر اعظم کو ایک سمری ارسال کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے قومی اسمبلی کا اجلاس دسمبر یعنی اگلے مہینے شروع کرنے کی بجائے مزید چار ماہ بعد اجلاس بلایا جائے

اس تجویز کے بارے میں حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات نزدیک ہیں اور سیاسی ارکان اپنے حلقوں میں عوام کےلیئے کام کرنا چاہتے ہیں اور عوام میں رہنا چاہتے ہیں

ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومتی حلقوں کا دعوی ہے کہ یہ کارروائی متحدہ مجلس عمل کے اعلان کردہ استعفوں کو روکنا نہیں بلکہ سیاسی ارکان اپنے علاقوں میں عوام کے پاس رہنا چاہتے ہیں

تاہم پہلی نظر میں یہ تجویز متحدہ مجلس عمل کے دسمبر کے پہلے اجلاس میں دیئے جانے کے عمل کو روکنا ہی ہے

گذشتہ رات چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی سرپیم کونسل میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ حدود کے ترمیمی بل کے پاس ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے نئے سال کے اجلاس میں استعفے اسپیکر کے حوالے کیئے جائینگے

تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایم ایم اے کے استعفوں کو برحال ہر حال میں روکنا چاہتی ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات