|
میں بہر حال دو باتیں ضرور کہتے
ہیں
ایک تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ
عوام ایسے لوگوں کو سامنے لائیں جو انتہا پسند نہیں ہیں اور ایسے
لوگوں کو ووٹ دیں جو اعتدال پسند اور روشن خیال ہیں
روشن خیال اور اعتدال پسند سے
اپوزیشن مسلم لیگ ق مراد لیتی ہے
جبکہ صدر مشرف دوسری بات یہ
کہتے ہیں کہ انتہا پسندوں کو ووٹ دے کر آگے نہ لائیں کیونکہ
انتہا پسند پاکستان کی ترقی کے دشمن اور پاکستان کے امیج کو خراب
کرنے والے ہیں
یہی بات متحدہ مجلس عمل کی سسٹر
جماعت جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے اپنے ایک
جسلہ خطاب میں کہی
انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف
جسٹس سے غائبانہ کہا ہے کہ وہ صدر مشرف کی ایسی تقریروں کا نوٹس
لیں جو وہ ایک سیاسی جماعت (مسلم لیگ ق ) کی انتخابات کےلیئے
لابنگ کر رہے ہیں
ان کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کو
پاکستان کا آئین بھی فوج کا آئین بھی یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ
کسی سیاسی جماعت کے لیئے ووٹ مانگیں
تاہم دوسری جانب مسلم لیگ ق اسی
کو آئین مانتی ہے
صدر مشرف نے اپنی کتاب میں اس
بات کا عتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایک سیاسی جماعت بنانا تھی سو
انہوں نے مسلم لیگ ق بنا دی
پاکستان یا فوج کا آئین صدر
مشرف کو اس بات کی اجازت دیتا ہے یا نہیں بہرحال وہ کوشش کر رہے
ہیں کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ق کو جتوایا جائے
|