|
کو احتجاجی نہ نکالیں
واضع رہے متحدہ مجلس عمل نے تیس
دسمبر کو چوہدری شجاعت حسین سے استعفے کا مطالبہ کرنے کےلیئے
لاہور سے گجرات تک احتجاجی ریلی نکلانے کا فیصلہ کیا ہے
متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت
بلوچ نے یہاں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہ کہ چوہدری شجاعت
حسین نے انہیں کہا ہے کہ وہ حقوق نسواں بل میں ترامیم کرا دینگے
ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت
حسین نے کہا ہے کہ اگر وہ بل میں ترامیم نہ کروا سکے تو وہ اپنے
وعدے کے مطابق مستعفی ہو جائینگے
استعفے دینے میں سخت مشکلات
قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ سے چھ
دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل استعفے دیتا ہے یا نہیں سات دسمبر کو تمام حقیقت حال کھل
کر عوام کے سامنے آجائیگی
مولانا فضل الرحمان گروپ کا
کہنا ہے کہ استعفے تو دینگے لیکن جماعت کی خواتین استعفے نہیں
دینگی
ادھر اسی گروپ کا کہنا ہے کہ
استعفوں کے بغیر بھی حالات پر قابوپایا جا سکتا ہے
ادھر پپلز پارٹی کے علاوہ مسلم
نواز گروپ نے بھی استعفے نہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ نواز
گروپ کا کہنا ہے کہ استعفے دینے کی بجائے عبور حکومت جس کا
سربراہ کوئی اور ہو کی زیر نگرانی انتخابات میں حصہ لیا جائے
پپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر
انتخابات منصفانہ ہوتے ہیں یعنی صدر مشرف اگر انتخابات منصفانہ
کرواتے ہیں تو ان کی موجودگی میں بھی انتخابات میں حصہ لیا جا
سکتا ہے
اس سے قبل پپلز پارٹی کا مطالبہ
تھا کہ صدر مشرف کی موجودگی میں انتخابات میں حصہ نہیں لینگے
ادھر قاضی حسین احمد نے اعلان
کر رکھا ہے کہ سات اور آٹھ دسمبر کو استعفے دے دیئے جائینگے
متحدہ مجلس عمل نے ایک اور
اعلان کیا ہے کہ حقوق نسواں بل کو صوبہ سرحد اور بلوچستان میں
نافذ نہیں ہونے دینگے
مبصرین کا کہنا ہے کہ متحدہ
مجلس عمل استعفے نہیں دیگی کیونکہ اس اتھاد میں سخت اختلافات
پائے جاتے ہیں
فضل الرحمان گروپ کے حافظ حسین
احمد نے اپنا استعفی قومی اسمبلی سے حقوق نسواں کا بل پاس ہوتے
ہیں مولانا فضل الرحمان کے ہاتھ میں دے دیا تھا
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی
جامعت نے ان کا ستعفے پیش نہ کیا تو وہ خود اسپیکر کو اپنا
استعفے دینگے
ادھر عمران خان نے اپنے ایک
بیان میں کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں میں کسی قسم کا کوئی اتحاد
نہیں ہے جس کی وجہ سے مشرف مخالف تحریک نہیں چلائی جا رہی |