Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 26 November 2006 13:58 (PST)اشاعت

دوست پر بھروسہ کیا سزائے موت پائی

عبدالشکور ابی حسن

اردو سروس ڈاٹ نیٹ ، کویت سٹی

منشیات سمگل کرنے کے الزام متعدد پاکستانی سزائے موت پا چکے ہیں

کویت سنٹرل جیل میں جن دوپاکستانیوں عبدالرحیم اور تاج محمد کو پھانسی دی گئی تھی ان کی لاشیں آج (سوموار)پی آئی اے کے ذریعے پاکستان( پشاورایرپورٹ) پہنچ رہی ہیں ۔ان دونوں پاکستانیوں کو منشیات اسمگلنگ کرنے کے جرم میں 20نومبر کودیگر

 دومجروں جن میں ایک بدون اور بنگلہ دیشی تھاپھانسی دی گئی تھی

تاج محمد نے پاکستانی سفارت خانہ کویت کے ویلفیئرسیکرٹری انعام غنی کو اپنی آخری ملاقات کے دوران بتایا کہ میں باڑہ خیبر ایجنسی کے علاقہ کمارخیل قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں ۔اور میں نے گورنمنٹ کالج پشاور سے ایف ایس ای پاس کی اوراس کے بعد میں اپنا ایک پرائیویٹ مسلم پبلک سکول کھولاتھا

اس نے بتایا کہ میرے دوبیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔تاج محمد نے بتاےا کہ اسی دوران میری ملاقات ایک بین الاقوامی ڈرگ مافیا کے رکن سے ہوئی جنہوں نے مجھے پاکستان سے کویت ہیروئن لے جانے کے بدلے میں ایک پاسپورٹ اور کویتی ویزہ کی پیشکش کی

تاج محمد نے مزید بتایا کہ ڈرگ مافیا نے مجھے کہاکہ اگر تم پکڑے بھی گئے تو صرف چھ ماہ کی سزاہوگی جس پر میں ایک دوست کے اصرار پر راضی ہوگیا ۔توانہوں نے مجھے 10جون 2004کو ایک بیگ اور جوتوں میں 300گرام ہیروئن ڈال دی جس کو میں لیئے پہلے پشاور ایرپورٹ سے بعذےعہ پی آئی اے کراچی آیا اور وہاں سے ایر چائینہ کی فلائٹ کے ذریعے کویت پہنچا ۔جہاں کسٹم حکام نے میری تلاشی لی جس پر انہوںنے مجھے فوراًگرفتار کرلیا ۔اور مجھے عدالتوں نے سزا موت کا حکم دیا ہے

انہوں نے کہا کہ میں نے دوستی پر بھروسہ کیا لیکن کسی پر بھروسہ کرنا انتہائی ہی خطرناک ہوتاہے جب ایسے لوگ جو منشیات کا دھندہ کررہے ہوں 

اسی طرح دوسرے مجرم 30سالہ عبدالرحیم ولد نادر شاہ نے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ میراتعلق زبری خیل (باڑہ) خیبرایجنسی سے ہے اور میرے دوبیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔میں 2003ء سے مزدوری کررہاتھا اور ہماری رہائش گاہ پر ایک بدنام منشیات کا اسمگلر جو ہمارے گائوں کا ہی تھا پذیر ہوگیا اس نے مجھے 7فروری 2004ء کو کویت سٹی میں کسی سے 800دینار کویتی (ایک لاکھ ستر ہزار) لانے کو کہا، لیکن جونہی میں وہاں پہنچا اور رقم وصول کرنے کے عین موقعہ پر پولیس نے مجھ کو گرفتارکرلیا کیونکہ یہ رقم منشیات اسمگلنگ کرنے کی آمدنی تھی

جس پر مجھے گرفتار کیا گیا میں نے عدالتوں میں اپیل کی تھی جو مسترد ہوگئیں اور مجھے سزائے موت سنادی گئی اور ایک دوروز میں اپنے انجام کو پہنچ رہاہوں

اس نے کہاکہ میں نے بھی اپنے گائوں کے شخص پر بھروسہ کیاتھا اور اس کے بہکائوے میں آگیاا لیکن میری نصیحت ہے کہ کسی سے سامان لیتے وقت اس کی چھان بین کرلی جائے اندھا بھروسہ نہیں کرنا چاہئے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات