|
دومجروں جن میں ایک بدون
اور بنگلہ دیشی تھاپھانسی دی گئی تھی
تاج محمد نے پاکستانی سفارت
خانہ کویت کے ویلفیئرسیکرٹری انعام غنی کو اپنی آخری ملاقات کے
دوران بتایا کہ میں باڑہ خیبر ایجنسی کے علاقہ کمارخیل قبیلے سے
تعلق رکھتا ہوں ۔اور میں نے گورنمنٹ کالج پشاور سے ایف ایس ای
پاس کی اوراس کے بعد میں اپنا ایک پرائیویٹ مسلم پبلک سکول
کھولاتھا
اس نے بتایا کہ میرے دوبیٹے اور
ایک بیٹی ہے ۔تاج محمد نے بتاےا کہ اسی دوران میری ملاقات ایک
بین الاقوامی ڈرگ مافیا کے رکن سے ہوئی جنہوں نے مجھے پاکستان سے
کویت ہیروئن لے جانے کے بدلے میں ایک پاسپورٹ اور کویتی ویزہ کی
پیشکش کی
تاج محمد نے مزید بتایا کہ ڈرگ
مافیا نے مجھے کہاکہ اگر تم پکڑے بھی گئے تو صرف چھ ماہ کی
سزاہوگی جس پر میں ایک دوست کے اصرار پر راضی ہوگیا ۔توانہوں نے
مجھے 10جون 2004کو ایک بیگ اور جوتوں میں 300گرام ہیروئن ڈال دی
جس کو میں لیئے پہلے پشاور ایرپورٹ سے بعذےعہ پی آئی اے کراچی
آیا اور وہاں سے ایر چائینہ کی فلائٹ کے ذریعے کویت پہنچا ۔جہاں
کسٹم حکام نے میری تلاشی لی جس پر انہوںنے مجھے فوراًگرفتار
کرلیا ۔اور مجھے عدالتوں نے سزا موت کا حکم دیا ہے
انہوں نے کہا کہ میں نے دوستی
پر بھروسہ کیا لیکن کسی پر بھروسہ کرنا انتہائی ہی خطرناک ہوتاہے
جب ایسے لوگ جو منشیات کا دھندہ کررہے ہوں
اسی طرح دوسرے مجرم 30سالہ
عبدالرحیم ولد نادر شاہ نے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ
میراتعلق زبری خیل (باڑہ) خیبرایجنسی سے ہے اور میرے دوبیٹے اور
ایک بیٹی ہے ۔میں 2003ء سے مزدوری کررہاتھا اور ہماری رہائش گاہ
پر ایک بدنام منشیات کا اسمگلر جو ہمارے گائوں کا ہی تھا پذیر
ہوگیا اس نے مجھے 7فروری 2004ء کو کویت سٹی میں کسی سے 800دینار
کویتی (ایک لاکھ ستر ہزار) لانے کو کہا، لیکن جونہی میں وہاں
پہنچا اور رقم وصول کرنے کے عین موقعہ پر پولیس نے مجھ کو
گرفتارکرلیا کیونکہ یہ رقم منشیات اسمگلنگ کرنے کی آمدنی تھی
جس پر مجھے گرفتار کیا گیا میں
نے عدالتوں میں اپیل کی تھی جو مسترد ہوگئیں اور مجھے سزائے موت
سنادی گئی اور ایک دوروز میں اپنے انجام کو پہنچ رہاہوں
اس نے کہاکہ میں نے بھی اپنے
گائوں کے شخص پر بھروسہ کیاتھا اور اس کے بہکائوے میں آگیاا لیکن
میری نصیحت ہے کہ کسی سے سامان لیتے وقت اس کی چھان بین کرلی
جائے اندھا بھروسہ نہیں کرنا چاہئے
|