|
جمیعت التحاد العلما، نے کہا ہے
کہ جن اسمبلی کے اراکین نے حدود کے ترمیمی بل کی حمایت کی ہے اور
اس کے حق میں ووٹ دیا ہے انہوں نے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی
اور اپنے حلف سے انحراف کیا ہے
علما، کا کہنا ہے کہ ایسے
اراکین اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائیں
متحدہ مجلس عمل میں شامل علما،
اراکین کا کہنا ہے کہ اب حکومت سے اس بل پر کوئی مذاکرات نہیں
ہونگے اور آئندہ ہونے والے پارلیمانی اجلاس کے موقع پر استعفے دے
دیئے جائیں گے
ادھر اہلسنت کی کم و بیش گیارہ
جماعتوں نے بھی حکومت کیخلاف اجتماعی فتوی جاری کرنے کا اعلان
کیا ہے
جماعتوں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف
نے قرآن و سنت کیخلاف بل منظور کیا ہے اور اپنے موقف سے تائب
نہیں ہورہے ہیں بلکہ اسے اس بل کو اب سینیٹ سے منظور کروایا
جارہا ہے
علما، کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی
علما حضرات خاموش رہے تو یہ قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوگی
واضع رہے حکومت نے حقوق نسواں
کے ترمیمی بل کو قومی اسمبلی سے پاس کروا کر اب سینیٹ میں بحث
کےلیئے پیش کیا ہے
حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ نہ
صرف اس بل کو اسی ہفتے منظور کروا لیا جائیگا بلکہ اب اس بل میں
متحدہ مجلس عمل کے کہنے پر کوئی ترمیم بھی نہیں کی جائیگی اور بل
اسی حالت میں منطور کروایا جائیگا |