|
ایک چینل سے بات چیت کرتے ہوئے
حافظ حسین احمد نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے دو مرتبہ وعدہ
خلافی ہے
انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت
حسین وعدہ خلاف انسان ہے انہوں نے پہلے ایم ایم اے کے ساتھ تحفظ
نسواں بل کے حوالے سے معاہدہ کیا۔ اور اس سے بعد میں انحراف
کرگئے
حافظ حسین احمد کے مطابق اس کے
بعد پھر علماء کمیٹی کو خود بلایا اور ان سے معاہدہ کیا کہ آپ کی
سفارشات کے ساتھ بل اسمبلی میں پیش ہوگا لیکن اس معاہدے پر بھی
وہ کاربند نہیں ہوئے
حافظ حسین احمد نے کہا کہ
میں چوہدری شجاعت حسین اور دیگر حکومتی اہلکاروں کو یہ چیلنج
کرتا ہوں کہ 10 ہزار علماء کرام کو ملک بھر سے اکٹھا کریں اور وہ
علماء جو علماء کمیٹی کے ممبران تھے ان کو بھی بلایا جائے ، اگر
وہ سارے علماء کرام اس بل کو غیر اسلامی قرار نہ دیں تو مجھے ہر
سزا قبول ہے واضع رہے حکومت کی
جانب سے حدود کا ترمیمی بل منظور کیئے جانے کے بعد سب سے پہلے
حافظ حسین احمد نے اپنا استعفی قائد حزب اختلاف اور چھ دینی
جماعتوں میں شامل جمعیت علمائے ف کے سپرد کیا تھا
حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ ان کا استعفی متحدہ مجلس عمل کے
منشور کے مطابق ہے انہوں نے
مولانا فضل الرحمان سے کہا تھا کہ اگر آپ نے میرا استعفی منظور
نہ کیا تو میں اپنا استعفی اسپیکر کو پیش کرد دونگا |