|
منظور کرلیا
حدود کا قومی اسمبلی اور سینیٹ سے
منظورہ کردہ بل اب صدر مشرف کے پاس جائیگا جو اس پر دستخط کرینگے
جس کے بعد بل ایک قانونی حثیت سے پاکستان میں نافذ ہو جائیگا
اپوزیشن نے آخری کوشش کے طور پر
بل میں کئی شقوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا تاہم اسے مسترد
کردیا گیا
حدود کا ترمیمی بل سینیٹ میں
حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی سے
منظور کیا جانے والا حدود کا ترمیمی بل آج سینیٹ میں پیش ہوگا
بل پر بحث کے دوران سینیٹ میں
وزیر اعظم شوکت عزیز بھی موجود ہونگے اور وہ بل پر بحث میں حصہ
لینگے
حکومت حدود کے ترمیمی بل کو
اسلامی اور مناسب قانون ثابت کریگی جبکہ امکان ہے کہ ایم ایم اے
اور مسلم لیگ نواز گروپ بل کیخلاف سینیٹ میں احتجاج کرینگے
متحدہ مجلس عمل نے قومی اسمبلی
سے حدود کے ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اسمبلیوں سے مستعفی ہونے
کا اعلان کر رکھا ہے
جبکہ ایم ایم اے نے گذشتہ روز
اعلان کیا ہے کہ وہ بل کیخلاف چوبیس نومبر سے ملک گیر احتجاج
کریگی
صدر مشرف نے قومی اسمبلی سے بل
کی منظوری کے بعد اپنی تقریر میں قوم کو مبارک باد دی تھی اور
مبہم سے انداز میں پپلز پارٹی کا شکریہ بھی ادا کیا تھا جس نے بل
کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا تھا اور حکومت کی کھل کر حمایت
کی تھی
سینیٹ سے بل کی منظوری کے بعد
حدود کا یہ ترمیمی بل صدر مشرف کے پاس جائیگا جو اس پر دستخط
کریں گے
صدر مشرف کے دستخطوں کے بعد
حدود کا ترمیمی بل ایک قانون بن جائیگا جو پاکستان بھر میں لاگو
ہو جائیگا تاہم مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ یہ قانون
صوبہ سرحد اور بلوچستان میں لاگو ہونے نہیں دینگے
جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب
پاس ہوگیا تو یہ چاروں صوبوں کےلیئے ہوگا اور مولانا فضل الرحمان
اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے |