|
اس طرح متاثرہ علاقوں میں سردی سے ہلاک ہونے
والے متاثرین کی تعداد ترپن ہو گئی ہے جبکہ اس سے پہلے بھی بیس سے زائد
افراد سردی سے ہلاک ہوچکے ہیں
گذشتہ دنوں پاکستان کے بالائی علاقوں میں بارش
سے اکثر خیمے بارش کے پانی بوجھ نہ سہہ سکنے کی وجہ سے گر گئے جبکہ
شدید برفباری میں بالائی علاقوں کے متاثرین کی مشکلات میں سخت اضافہ
ہوا گیا ہے
سردی سے ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی ہے
جو سردی سے متعدد بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں
پاکستانی اور عالمی امدادی تنظیموں نے خبردار
کیا ہے کہ اگر بچوں کو سردی سے بچایا نہ گیا تو ہلاک ہونے والوں میں
اکثر بچے شامل ہونگے
گذشتہ دنوں جرمنی کے وزیر دفاع کے متاثرہ علاقوں
کے دورہ کے دوران جرمنی کی امدادی ٹیموں اور جرمن پائلٹوں اور فوجیوں
نے وزیر دفاع کو بریفننگ میں بتایا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں دو لاکھ
افراد سخت خطرے میں جبکہ اب کئی فٹ برفباری بھی شروع ہو چکی ہے
گذشتہ تین دن سے متاثرہ علاقوں میں امدادی
کارروائیاں بند تھیں تاہم اب یہ کارروائیاں جزوی طور پر بحال ہو گئی
ہیں لیکن خدشہ ہے کسی بھی وقت ان امدادی کارروائیوں کو روکنا پڑ جائے
گا
|