|
ممالک میں بھی انسانی اعضا، خریدے
اور فروخت کیئے جاتے ہیں
پاکستان میں اب انسانی اعضا، کی
خرید و فروخت ایک عام بزنس کی صورت اختیارکرتی جا رہی ہے
جن میں ’ گردوں ‘ کی خرید فروخت سرفہرست ہے
تاہم حیرت انگیز طور پر پاکستان میں
یہ بزنس کھلے عام ہو رہا ہے لیکن حکومت نے ان خبروں کا
قطعی کوئی نوٹس نہیں لیا جو بین القوامی میڈیا میں آ چکی
ہیں
صدر مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز کا
کہنا ہے کہ پاکستان ہر سال آٹھ پوائنٹ کے حساب سے ترقی کر
رہا ہے
تاہم دوسری جانب جب پاکستان کی
پارلیمنٹ میں ملکی مفاد میں فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں اور
وزیر اعظم شوکت عزیز پریس کانفرنس میں بتا رہے ہوتے ہیں کہ
پاکستان نے اس شرح سے ترقی کی ہے تو پارلیمنٹ کی عین بغل
کے نیچے کم از کم چھ افراد لائن میں لگے اپنا گردہ
بیچنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں
کہا جاتا ہے کہ گردہ بیچنے
والے ایسا غربت کی وجہ سے کرتے ہیں تاہم اس سے زیادہ کسی
طرف سے اس بارے میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا
پاکستان میں اس غیر انسانی اور غیر
قانونی کاروبار پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گردہ
یقیناََ غربت کی وجہ سے بیچا جاتا ہے اور خریدنے والا اپنی
زندگی کو بچانے کےلیئے مکمل طور طے شدہ معاوضہ ادا کرتا ہے
تاہم پاکستان میں گردہ نکالنے اور مریض کو لگانے والے
ڈاکٹر گردہ بیچنے والے کی صحت اور تندرستی کی طرف سے فوری
ہاتھ کھینچ لیتے ہیں جو جرم کی دوہری مثال ہے
گردہ بیچنے والوں کا کہنا ہے کہ
گردہ نکالے جانے کے بعد ڈاکٹر انہیں دوسرے دن ہسپتال سے
نکال دیتے ہیں اور بعدازاں ان کا چیک اپ نہیں کیا جاتا اور
نہ دوائی وغیرہ دی جاتی ہے
گردہ بیچنے والے افراد تمام زندگی
محنت مزدوری سے محروم ہو جاتے ہیں جبکہ ایسے افراد مسلسل
اذیت ناک درد کا شکار بھی رہتے ہیں
یورپی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گردہ
بیچنے والوں کو کئی مہنے میڈیسن ٹریٹمنٹ کی ضرورت رہتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ گردہ بیچنے
والوں میں اسی فیصد افراد ایسے ہیں جو بعدازاں یہ کہتے
پائے گئے ہیں کہ ’ کاش وہ اپنا گردہ نہ بیچتے ‘ تاہم
پاکستان میں گردہ بیچنے والوں کا کہنا ہے وہ غربت اور قرض
ادا کرنے کےلیئے اپنا گردہ بیچتے ہیں
پاکستان میں بعض افراد کچھ نجی
ہسپتالوں اور گردہ بیچنے والوں کےلیئے رابطے کا کام کرتے
ہیں جبکہ گردہ بیچنے کو ڈیڑھ ہزار ڈالر سے ساڑھے تین ہزار
ڈالر تک دیئے جاتے ہیں جبکہ ڈاکٹر مریض سے چودہ ہزار ڈالر
سے پچاس ہزار ڈالر تک وصول کرتے ہیں
پاکستان میں ایسے ڈاکٹروں سے کسی
بھی انٹرنیٹ پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے جبکہ ایسے افراد
سے بھی انٹرنیٹ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے جو گردہ بیچنے اور
نجی ہسپتالوں کے لیئے رابطے کا کام کرتے ہیں
|