Download urdu Font

 

 

 

 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 31 January 2006 21:22 (PST)اشاعت

متحدہ مجلس عمل زیر تنقید ہے

 

میراتھن کے روز متحدہ کا کوئی کارکن کہیں نظر نہیں آیا

پاکستان میں چھ جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل لاہور میں میراتھن تنازعہ کی وجہ سے زیر تنقید آیا ہوا ہے، متحدہ مجلس عمل نے لاہور میں پنجاب حکومت کی طرف سے انتیس جنوری کو منعقدہ میراتھن بزور طاقت روکنے

کا اعلان کیا تھا تاہم انتیس جنوری کو متحدہ مجسل عمل کی لیڈر شپ اور کارکنان کہیں غائب ہوگئے اور میراتھن انتہائی آرام و سکون سے اختتام پذیر ہوگئی

وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے اسے جمہوریت ، روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی جیت کہا جبکہ حکومت پنجاب کے دیگر وزرا، نے اس کو کھیلوں کی اعلی روشن مثال سے تعبیر کیا

تاہم متحدہ مجلس عمل کہاں گئی ؟

عوامی حلقے اور سیاسی نجومیوں کا کہنا ہے کہ ایم ایم اے حکومت کا دست و بازو بن گئی ہے اور سترویں ترمیم کے بعد متحدہ مجلس گرتی پڑتی حکومت کو سنبھلا دینے اور سرحد حکومت بچانے کا کام سرانجام دے رہی ہے

میراتھن ریس سے دو دن پہلے پنجاب بھر سے متحدہ مجسل عمل کے سینکڑوں کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کو بھی یہ حلقے متحدہ مجلس عمل کی ’ روشن خیال اور اعتدال پسند سیاست ‘ قرار دے رہے ہیں

تاہم حیرت انگیز طور پر عورتوں اور مردوں کی جس اکٹھی ریس سے دو دن پہلے متحدہ مجلس عمل نے واویلا کیا اس کا نتیجہ انتیس جنوری کو ریس والے دن یہ نکلا کہ پورے لاہور میں متحدہ مجلس عمل کا کوئی ’غازی ‘ کسی کو کہیں نظر نہیں آیا جس سے عوامی حلقوں اور سیاسی نجومیوں کا کہنا ہے کہ ایم ایم اے حکومت کا دست و بازو ہے

ان حلقوں کا کہنا ہے کہ جب بھی مشرف کو امریکہ کو باور کروانے کےلیئے ضرورت پڑتی ہے کہ انتہا پسند مشرف حکومت کےلیئے خطرہ ہیں اسی وقت متحدہ مجلس عمل کسی نہ کسی شہر میں جلسہ جلوس یا مظاہرہ کر دیتی ہے جس سے مشرف حکومت کے کئی دن بڑھ جاتے ہیں

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

کالم۔تجزیئے

میڈیا فوکس