|
پنجاب بھر سے پولیس نے کم و بیش چھ سو افراد
کو ہفتے کی رات تک گرفتار کر لیا تھا
لاہور میراتھن کا انعقاد اور روکنے کے انتظامات نجاب حکومت کی طرف سے اتوار کو میراتھن
کروانے جبکہ مذہبی جماعتوں کی طرف سے اسے روکنے کے انتظامات مکمل
ہو گئے ہیں جبکہ پولیس نے پنجاب کے مختلف شہروں سے دو ہزار کے قریب
افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے پنجاب کے وزیر اعلی چوہدری پرویز
الہی کا کہنا ہے کہ میراتھن میں خلل ڈالنے والوں کے ساتھ
آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جائے گا
تاہم متحدہ مجلس عمل کی قیادت اور
دیگر مذہبی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ میراتھن کو طزور
طاقت روکا جائے گا
متحدہ مجلس عمل کے پنجاب کے صدر
لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ پولیس اب تک دو ہزار کے قریب
افراد کو گرفتار کر چکی ہے
قاضی حسین احمد نے پنجاب حکومت کے
ساتھ مخلوط میراتھن کے بارے میں بات چیت کی تھی تاہم اس کے
باجوود میراتھن کا انعقاد حکومت نہیں روکا
حکومت کی جانب سے میراتھن کے تمام
انتظامات مکمل ہو چکے ہیں
قاضی حسین احمد کو پولیس نے منصورہ
میں مقید کر دیا ہے اور انہیں علاقے سے باہر جانے کی اجازت
نہیں دی، متحدہ مجلس کے رہماؤں کا کہنا ہے کہ ’ منصورہ کو
پولیس اہلکاروں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا اور قاضی حسین
احمد منصورہ سے باہر نہیں جاسکتے
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ عورتوں
اور مردوں کی ریس ہماری اقدار کے منافی نہیں ہے تاہم مذہبی
جماعتوں کا اس کے برعکس رد عمل ہے
مذہبی جماعتیں عورتوں اور مردوں کی
ریس کو اسلامی شعائر کیخلاف ہونے کا دعوی کرتی ہیں
|