|
صوبہ سرحد کے 22 سینیٹروں میں سے 11 سینیٹروں کے
تقدیر کا فیصلہ پیر کے روز ہونے والا ہے۔14 عام نشستوں پر کامیاب ہونے
والے سینیٹروں میں سے 7 سینیٹرز خواتین کی چار نشستوں پر کامیاب ہونے
والے سینیٹروں میں سے 2 خواتین سینیٹرز اور چار ٹینکو کریٹس کی نشستوں
پر کامیاب ہونے والوں میں سے 2 ریٹائر ہو جائیں گے
آنے والے مارچ میں سینیٹ یعنی ایوان بالا
پاکستان کے انتخابات ہونگے جبکہ ریٹائر ہونے والے سینیٹرز نئے انتخابات
تک فرائض انجام دیتے رہیں گے
وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات انیسہ زیب طاہر
خیلی کی قسمت کا فیصلہ بھی اس میں ہونے والہ ہے۔سینیٹ میں سرحد سے
زیادہ تعداد متحدہ مجلس عمل کی ہیں
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی
خان ،سابق وزیر اعلی سرحد سردار مہتاب خان،جے یو آئی کے صوبائی جنرل
سیکرٹری مولانا گل نصیب خان اور جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر
پروفیسر ابراہیم کے نام بھی قرعہ اندازی میں شامل ہونگے
ٹینکو کریٹس کے 4 نشستوں میں سے مولانا سمیع
الحق اور الیاس بلور کے نام بھی قرعہ اندازی میں شامل کئے جا رہے ہیں
سرحد سے سینیٹرو ں میں سے فرحت اللہ بابر ،آعظم
خان ،قاری عبد اللہ ،صاحبزادہ خالد جان، مراد علی شاہ، ڈاکٹر سعد
،گلزار خان، وقار احمد،مسز فخر زمان،کوثر فردوس اور سپریم کورٹ کے جج
ناصرالملک کے بھائی اور کامران خان کے صاحبزادے سمیت کئی دیگر بھی شامل
ہیں
آئین کے ارٹیکل 59 کے تحت سینیٹ 100
ممبران پر مشتمل ہے۔سب ارٹیکل الف کے تحت 14 ممبران ھر صوبائی اسمبلی
منتخب کرتی ہے۔’ب’ کے تحت آٹھ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے
ہوتے ہیں۔’ج’کے تحت دو عام نشستوں پر ایک ٹینکو کریٹس اور ایک خاتون
وفاق اسلام آباد سے’د’کے تحت چار خواتین ھر صوبائی اسمبلی اور چار
ٹینکو کریٹس بھی ھر ایک صوبائی اسمبلی منتخب کرتی ہے۔
|