|
فیصد لوگ چل بسے ہیں۔لیکن ہمارے گاؤں کو ’
آٹھ ’ روز بعد تک کوئی امداد نہی پہنچی۔میرے کہنے
کا مطلب یہ ہے کہ امداد
تو کافی آگئی تھی لیکن متاثرین تک نہی پہنچی۔بلکہ مزکورہ مالی
امداد مقامی راجاؤں نے اپنے
گھروں میں سٹاک کیا
محمد ہارون
اپنی کہانی سناتے سناتے
کسی کام کے سلسلے میں کمرے سے باہر گیا تو ان کے ایک دوست
عبدالشکور نے بتایا کہ جب بھی ہم کینٹین
جاتے ہے تو محمد ہارون ٹیلی وژن پر زلزلہ کی خبریں دیکھ کر رونا
شروع کر دیتے ہے اور پھر گنٹھوں روتا رہتا ہے۔
انہوں کا کہنا تھا کہ
یہی حال تمام متاثرین کاہیں۔کیونکہ
آٹھ
اکتوبر کے زلزلہ سے بستیوں
کی بستیاں اور
شہروں کے شہر اجاڑ دئیے ہے،جس سے ایک نسل تو مکمل طور پر ختم ہو
گئی ہیں۔اس دوران محمد ہارون دوبارہ کمرے میں آگئے اور
اپنی ٹوٹی پھوٹی کہانی
دوبارہ شروع کی
میں پاک آرمی میں سپاہی ہوں
اور اس وقت صوبہ سرحد ضلع ہنگو کے علاقے ٹل میں تعنیات ہوں۔زلزلہ
کے فورا بعد میں نے متعدد بار فون کے زریعے گھر سے رابطہ کرنے کی
کوشش کی لیکن کوئی رابطہ نہیں
ہوا۔بالآخر
جب اگلے روز چھٹی لے کر رات گئے اپنے گاؤں پہنچا تو وہاں لاشون کے
ڈھیر پڑے تھے ، یوم آخرت کی طرح ہر کوئی اپنے اپنے غم میں ڈوبا ہوا
تھا۔ادھر کسی کو جھاڑیوں سے اپنی
ماں کی نعش ملی تو
پاؤں تلے زمین نکل گئی۔جب دوسری طرف بھابھیوں کی نعشیں دیکھیں
توماں کو بھول کر انہی کی طرف
دیکھنے لگے۔لیکن جب ایک اور جگہ نظر پڑی تو بھانجے
بے گوروں کفن پڑے ہوئے تھے، تو ماں اور بھابھیوں کو بھول گیا۔انہون
نے بتایا کہ ہمیں روزے،افطار اور سحری کا کوئی
پتہ نہی چلا ،کیونکہ قبرستانوں میں تو اذانین نہی ہوا کرتیں۔حتی کہ
اکثر نعشوں کو بے گوروں کفن دفنا دیا گیا جبکہ بعض تو ملبے تلے
لاپتہ ہو گئے ہیں
انہوں نے افسوس کا اظہار
کرتے ہوئے بتایا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں انسانیت بھی ختم
ہولگئی۔مالی امداد کو بری طرح لوٹا گیا، گھروںکو
لوٹا گیا۔ حتی کہ زیورات چھیننے کی خاطر عورتوں کے
اعضا کاٹ دئیے گئے
انہون نے بتایا جب
آٹھ روز تک کوئی
امداد نہی پہنچی تو قریبی رشتہ داروں نے راولپنڈی سے ایک ٹرک سامان
بھیجا اور اب ہم انہی خیموں میں آس لگائے
بیٹھے ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ جو
واقعی متاثرین ہیں وہ تو امداد بھی مجبوری کی وجہ سے لے رہے ہے
ورنہ جس کا سب کچھ لوٹ چکا ہو وہ بلا امداد
کا کیا کرے گا لیکن یہ پیٹ بہت بری چیز ہے۔ انہوں نے بتایا جب سے
فوج نے چارج سنبھالا ہے تب سے کچھ نہ کچھ امدادی
سامان متاثرین کو
ملنا شروع ہو گیاہے۔انہوں نے عوام سے اپیل
کی کہ سب رب ذوا لجلال سے اپنے
اپنے
گناہون کی معافی مانگیں اور متاثرین
زلزلہ کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی پڑھیں۔ |