|
اسے ایسے دیکھتا کہ وہ کسی
نہ کسی مکان سے کسی لاش کو نکال رہا ہے شائد وہ اس دکھ کو کم کرنے
کی کوششوں میں ہے جو اسے اس زلزلے نے دیا اور اس سے اس کا سب کچھ
چھین لیا ہے
اس وقت جبکہ مظفرآباد میں
25 سے
30 ہزار افراد موت کا لقمہ
بن گئے ہیں اب بھی کئی ہزار افراد ملبوں تلے دبے ہوئے ہیں
تین دن تک مقامی لوگ زخمیوں
اور ہلاک ہونے والوں کو خود اپنے ہاتھوں یا لوہے کے کمزور سریوں سے
نکالتے رہے لیکن اب غیر ملکی ٹیمیں بھی ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کو
نکال رہی ہیں
مظفرآباد میں اب لاشوں کے
تعفن سے ادھر ادھر پھرنا بھی محال ہو گیا ہے جس کی وجہ سے امدادی
میں مشکلات پیش آنا شروع ہو گئی ہیں ، خطرہ ہے کہ لوگ دبے ہوئے
افراد کو ایسے ہی چھوڑ کر علاقے سے چلے نہ جائیں
پاکستان کے زیر انتظام
کشمیر کے وزیر اعظم نے پریس والوں سے انتہائی مغموم اور رندھی ہوئی
آواز میں کہا کہ ََ میں اب کن کا وزیر اعظم ہوں ََ میں
قبرستان کا وزیر اعظم بن کر رہ گیا ہوں
کشمیر کی حکومت اس قدر امیر
حکومت نہیں تھی کہ وہ کسی بھی آفت سے نمٹنے کے وسائل رکھتی جس کی
وجہ سے فوری طور پر زلزلے سے متاثر افراد کی کوئی مدد نہیں جا سکی
اور زلزلے سے متاثر ہونے والوں کی مدد کا سارا دارومدار وفاقی
حکومت پر تھا
عام لوگ اور غیر ملکی
ٹمیمیں اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہی
ہیں
سکول کے ملبے تلے دبے ہوئے
کئی بچوں کو زندہ بچا لیا گیا ہے جس میں چھ چھ سات سات برس
کے بچے شامل ہیں
پیر کے دن ایک شخص نے اپنی
بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر اس وقت نکالا جب وہ زلزلے کے
بعد سکول پہنچا
کشمیر کے علاقے باغ ، راولا
کوٹ میں بھی کم از کم 15
20 افراد ہلاک ہوئے
ہیں جبکہ اب بھی ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں
کشمیر کے گرد ونواح کے
علاقوں کے علاوہ وہ علاقے ابھی امداد کاررئیوں سے محروم ہیں جو
پہاڑیوں کے نیچے ایک ایک دو دو مکانوں پر مشتمل تھے
کشمیر ، باغ ، راولا کوٹ اور اس کے گرد و نواح میں
ہلاکتوں اور پاکستان کے شمالی علاقوں جن میں سرحد بھی شامل کی
خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہلاکتیں اسی سے نوے ہزار
تک پہنچ سکتی ہیں اور اتنی تعداد زخمیوں کی ہو سکتی ہے |