ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:20 PSTاشاعت

 

تین دن سے کھانے کو کچھ نہیں ملا

 

جرمنی سے مظفرآباد کے نجم الدین خان سے فون پر بات چیت

 

تین کے بعد امدادی ٹیمیں مظفرآباد پہنچی ہیں ۔  نجم الدین خان

اردو سروس جرمنی نے جرمنی سے فون پر مظفرآباد کے رہائشی نجم الدین خان سے وہاں کے مزید حالات اور آنکھوں دیکھا حال جاننے کےلیئے بات چیت کی جس میں انہوں نے بتایا کہ جب زلزلہ آیا تو وہ اپنے گھر میں موجود تھے اس وقت مظفرآباد کے سکول میں جانے کے قابل بچے سکول گئے

ہوئے تھے لوگ دوکانیں کھول رہے تھے اور میں آفس جانے والا تھا کہ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے

انہوں نے بتایا کہ زلزلے کے خوف اور اس کی شدت سے میں نے دیوار کا سہارا لینا چاہا تو ایسا لگا جیسے دیوار نے مجھے دور پھینک دیا ہو

انہوں نے مزید بتایا کہ میں گھر کے دو کمروں کو عبور کر کے صحن میں پہنچا اور وہاں سے باہر نکل گیا تو اسی وقت ہر طرف سے چیخ پکار شروع ہو گئی

میرا گھر اونچائی پر ہونے کی وجہ دور دور تک علاقہ صاف نظر آرہا تھا میں نے پہاڑوں کی طرف دیکھا تو پہاڑ ٹوٹ کر نیچے کی آبادیوں پر گر رہے تھے

نجم الدین خان نے بتایا کہ پہاڑوں کے ٹوٹنے اور آبادیوں پر گرنے اس قدر گردو غبار ہوا کہ پورے علاقے پر اندھیرا چھایا گیا

انہوں نے بتایا کہ کچھ دیر بعد میری نظروں کے سامنے والی تمام آبادی زمین بوس ہو گئی ایسے ہو اگیا جیسے یہاں برسوں سے گرے پڑے اینٹ روڑے ہوں

انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آپ کے خیال میں اس وقت کتنے بچے سکولوں میں گئے ہوئے ہونگے ؟

نجم الدین نے کہا کہ اس وقت صبح کا وقت تھا اور مظفرآباد کا ہر وہ بچہ سکول میں تھا جو سکول جانے کے قابل تھا

انہوں نے کہا کہ اس وقت گھر میں صرف عورتیں اور وہ بچے رہ گئے تھے جن کی عمریں ایسی تھیں جو صرف اپنی ماؤں کے پاس ہی رہ سکتے تھے

انہوں نے کہا کہ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سکولوں میں دب جانے والے بچوں کی تعداد کیا ہو گی

نجم الدین خان نے امدادی کارروائیوں کے بارے میں بتایا کہ آج تین بعد جب میں مظفرآباد سے مانسہرہ جانے کےلیئے نکلا تو اس وقت میں فوجی کاروان دیکھا جو مظفرآباد کی طرف کا رہا تھا  اس سے پہلے کوئی امدادی ٹیم وہاں موجود نہیں تھی جو لوگ زلزلے سے زخمی نہیں ہوئے تھے یا کم زخمی ہوئے تھے وہ اپنے لوگوں کو زمین بوس ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے نکال رہے تھے

انہوں نے بتایا کہ ہم نے تین دن سے کھچ نہیں کھایا ہفتے کو ہم نے روزہ پانی سے کھولا اور اگلے دن کا روزہ بھی ہم نے پانی ہی سے کھولا، نہ کچھ کھانے کو تھا اور نہ ہی پینے کےلیئے پانی

نجم الدین خان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کو دفن کرنے کےلیئے جگہ نہیں رہی اگر کہیں جگہ ملتی ہے تو اس کی کگدائی کےلیئے اوزار نہیں اس لیئے لوگ اب اپنے گرے پڑے گھروں میں ہی اپنے لوگوں کو دفن کر رہے ہیں

نجم الدین خان کا کہنا تھا کہ شائد اللہ نے ہم سے امتحان لیا ہے

انہوں نے کہا کہ دریائے نیلم اور جہلم انسانی لاشوں اور مرے ہوئے مویشیوں سے اٹا پڑا ہے اور اس کے پانی کا رنگ سیاہ ہو گیا

نجم الدین کا کہنا تھا علاقے میں لاشوں کے تعفن سے اب خطرناک بیماریاں پھیلنا کا خطرہ ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں