|
ہلاک ہونے والوں کی تعداد
33ہزار تھی جبکہ
ایک ہی رات کے بعد حکومت کی طرف سے بتائے گئے اعدادوشمار میں
20ہزار افراد کی
ہلاکتوں کا اضافہ ہوگیا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے
والوں کی تعداد 53ہزار
ہو گئی ہے جس میں کشمیر اور صوبہ سرحد میں ہلاک ہونے والے افراد
شامل ہیں
ایک دن پہلے پاکستان کے
وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ مظفرآباد میں
ہلاک ہونے والوں کی تعداد18500ہے
جبکہ ایک رات بعد کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں کہا گیا
ہے کہ یہ تعداد 40ہزار
سے اوپر ہے
ریلیف کشمنر میجر جنرل
محمد فاروق نے اپنی تازہ ترین پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومت کی
طرف سے جاری کئے گئے اعدادوشمار میں وہ ہلاک شدگان شامل نہیں جن کو
ان کے عزیز و اقارب نے اپنے ہاتھوں سے دفنایا ہے
کشمیر میں تباہ ہونے والی
آبادیوں کی کئی سڑکوں پر لاشیں سڑکوں پر دیکھی گئی ہیں جو اب بھی
کہیں کہیں نظر آ رہی ہیں اور لوگ ان کے پاس سے گزر جاتے ہیں
مظفرآباد میں دو سو کے قریب
متاثرہ افراد کےلیئے صرف ایک بوری گرم کپڑوں کی دی گئی جس پر کئی
افراد نے اس امداد کو برے الفاظ دیئے، ایک شخص نے روتے ہوئے ایک ٹی
وی کو بتایا کہ یہ امداد آپ دیکھ رہے ہیں یہ ہم دو سو کے قریب
افراد کےلیئے نو دن بعد پہنچی ہے
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق
صرف کشمیر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اسی ہزار کے قریب پہنچ چکی
ہے جبکہ اب بھی ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن میں اکثریت
بچوں اور عورتوں کی ہے
ادھر صوبہ سرحد میں صوبائی
حکومت کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پندرہ ہزار تک پہنچ
سکتی ہے جبکہ دسویں دن بھی ایسے سینکڑوں چھوٹے بڑے دیہاتوں میں
امداد نہیں پہنچی جو دوردراز کے پہاڑی علاقوں میں موجود ہیں
صوبہ سرحد اور کشمیر کے کئی
علاقوں میں اردو سروس جرمنی کے رابطہ کرنے پر لوگوں نے بتایا کہ
امداد پہلے کی بہ نسبت اب پہنچ رہی ہے لیکن یہ امداد انتہائی کم ہے
اور اس وقت سب سے زیادہ مسئلہ بوڑھے لوگوں اور بچوں کو سردی اور
بیماریوں سے بچاؤکا پیدا ہو گیا ہے
کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ
کئی مقامات پر دوکانیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں اور ضروریات زندگی کی
اشیا، زیادہ تو نہیں لیکن کچھ چیزیں مل رہی ہیں
ادھر کشمیر کے کئی علاقوں
سے ابھی بھی لوگوں کی شکائتیں موصول رہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کچھ
لوگ امدادی گاڑیوں کے سامان اترنے سے پہلے ہی وہاں سے امدادی
گاڑیاں کہیں لے جاتے ہیں
جبکہ کچھ لوگوں نے بتایا کہ اب اکثر مقامات پر فوج کا کنٹرول ہے
اور راستوں میں فوج تعینات ہے جس سے ایسے واقعات کم ہو گئے ہیں
اقوام متحدہ کے علاوہ انصار
برنی اور عبدالستار ایدھی کا بھی کہنا ہے کہ کم از کم پچاس لاکھ
افراد زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں
مظفرآباد میں رہائش پذیر
پاکستان کے ایک روزنامے کے کالم نگار کا کہنا ہے کہ صرف کشمیر میں
ہلاک شدگان کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر ہو سکتی ہے |