ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:19 PSTاشاعت

 

کویت سے چار کروڑ روپے سے زائد امداد

 

عبدالشکور ابی حسن ۔ کویت

اردو سروس ۔ نیٹ

 

زلزلے کے بعد اب سردی کی شدت سے جانوں کو خطرہ

پاکستان میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے میں اندرون ملک کے علاوہ بیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں نے بھی ایک بڑی امداد پاکستان روانہ کی ہے۔ کویت سے اب تک چار کروڑ روپے سے زائد کی مالی اور اشیائے دیگر کی امداد متاثرین کے لیئے اکٹھی کی گئی ہے جس میں سے ایک کروڑ

روپے سے زائد کی امداد پاکستان روانہ کر دی گئی ہے جو مالی اور اشیائے ضروریات کی شکل میں ہے

کویت میں یوں تو شائد ہی کوئی پاکستانی ایسا ہو جس نے متاثرین کےلیئے کچھ امداد نہ دی ہو لیکن کویت میں چند پاکستانیوں نے اپنے پلاٹ ۔ مکان اور گھر تک متاثرین کےلیئے فروخت کر دیئے ہیں یا انہیں متاثرین کی بحالی کےلیئے وقف کر دیئے ہیں

زلزلے کے بعد کویت کی پاکستانی کمیونٹی میں کوئی پارٹی یا تنظیم نہیں رہی اگر ہے تو صرف پاکستانی ہیں

کویت کے امیر شیخ جابر الصباح نے پاکستان کو ایک سو ملین ڈالر کی امداد دی ہے جبکہ کویت میں رفاہی تنظیم حیا الخیر ایک لاکھ کویتی دینار اور طارق عسی سلطان نے ساٹھ ہزار کویتی دینار امداد میں دیئے ہیں

ایک اسلامی تنظیم ہیہ التراث کے امیر شیخ الطارق عیسی نے متاثرین کےلیئے بائیس لاکھ روپے کا امدادی سامان دیا ہے

یہاں کویت میں مقیم مسلم لیگ ن کویت کے صدر رانا عبدالستار پچاس لاکھ روپے کا امدادی سامان پاکستان جا رہے ہیں جہاں وہ یہ سامان خود متاثرین میں تقسیم کرینگے

پاکستان میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کےلیئے دن رات امداد اکٹھی کی جا رہی ہے امدادی کاموں کی نگرانی اور امدادی اکٹھی کرنے والوں میں مسلم لیگ ن کے رانا عبدالستار ۔ پپلز پارٹی کے عتیق عدنان۔ نیشنل آرٹس گیلری کے چیئر مین ساجد بھٹی حافظ شبیر احمد ،  محمد عارف بٹ۔ میاں محمد ارشد۔ ماجد علی چوہدری۔ انیس الرحمان بٹ۔ شہزاد الرحمان بٹ۔ رانا منیر احمد اخلاق احمد ملک ۔ احتشام احمد تبسم جاید ملک ۔ کرنل ریٹائرڈ مسعود انجم ۔ پروفیسر خالد رشید نے ایک ریلیف تنظیم  کمیٹی کویت میں قائم کی ہے

امدادی کمیٹی کے قائم کرتے ہی امداد کی ابتدا، بھی ان ہی لوگوں سے جنہوں نے کود کمیٹی قائم کی ۔ اس موقع پر حافظ شبیر احمد نے سات لاکھ روپے۔ محمد عارف نے سات لاکھ۔ انیس الرحمان نے سولہ لاکھ روپے کی مالیت کا سامان۔ احتشام احمد نے ایک لاکھ روپے۔ تبسم جاید ملک نے چار لاکھ۔ ملک اخلاق احمد نے دس لاکھ  اور میاں محمد ارشد نے ایک لاکھ روپے امدادی کمیٹی کو دیئے

کویت میں گوجرانوالہ کے شکیل احمد نے پاکستان میں اپنا دو کروڑ روپے کا پلاٹ دس لاکھ روپے مدرسے کی بنیادوں اور پچیس بچوں کی کفالت کا ذمہ اٹھانے کے علاوہ چار لاکھ روپے نقد دیئے ہیں

راولا کوٹ کے رہائشی شبیر احمد خان نے راولا کوٹ میں اپنا ایک چالیس کمروں کا وسیع و عریض ہوٹل اور اپنے گھر کو متاثرین کےلیئے ہسپتال میں بدل دیا ہے

کویت سے پاکستان میں زلزلے سے متاثرین کےلیئے امدادی کام جاری ہیں اور توقع ہے کہ مزید کئی کروڑ روپے کی امداد متاثرین تک پہنچے گی

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں